کشمیر: مقدمے کا سامنا کرنے والی خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے نامزد

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے تعلق رکھنے والی چھبیس سالہ معروف خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کو واشنگٹن ڈی سی میں قائم انٹرنیشنل وومنز میڈیا فائونڈیشن نے سال 2020 کے ‘آنجا نائیدرنگہاس کریج ایوارڈ’ کے لیے نامزد کردیا ہے۔

مسرت زہرا جو بحیثیت فری لانسر کام کرتی ہیں، کے خلاف رواں برس اپریل میں جموں وکشمیر پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ‘اینٹی نیشنل پوسٹس اور تصویریں’ اپ لوڈ کرنے کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون اور تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کو ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے۔ مسرت کی طرف سے کھینچی گئی تصویروں کو انٹرنیشنل وومنز میڈیا فائونڈیشن کی جیوری نے کافی سراہتے ہوئے ‘آنجا نائیدرنگہاس کریج ایوارڈ’ کا حقدار قرار دیا ہے۔ ان تصویروں میں کشمیر میں تنازعہ اور اس کے مقامی لوگوں بالخصوص خواتین پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی کی گئی ہے۔

یہ ایوارڈ 2014 میں افغانستان میں ہلاک ہونے والی اڑتالیس سالہ ایوارڈ یافتہ جرمن فوٹو جرنلسٹ آنجا نائیدرنگہاس کی یاد میں دیا جاتا ہے۔ 1990 میں معرض وجود میں آنے والی انٹرنیشنل وومنز میڈیا فائونڈیشن، جو بہادر خواتین صحافیوں کی حوصلہ افزائی اور آزادی صحافت کے لئے برسر جدوجہد ہے، ہر سال ایک بہادر خاتون صحافی کو بیس ہزار امریکی ڈالر کے ایوارڈ سے نوازتی ہے۔ مسرت زہرا نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا ایوارڈ ہے کیونکہ یہ وہ ایوارڈ ہے جو مجھے اپنے پیشے میں جرات کا مظاہرہ کرنے پر دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی میرے کام کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ صرف میرا ایوارڈ نہیں ہے بلکہ کشمیر میں کام کرنے والے ہر ایک صحافی کا ایوارڈ ہے جنہیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مسلسل خطروں سے کھیلنا پڑتا ہے’۔ مسرت نے بتایا کہ انہوں نے اس ایوارڈ کے لیے اسی سال فروری میں ایپلائی کیا تھا۔ ‘میں نے ادارہ کو اپنی کچھ تصویریں بھیجی تھیں جنہیں خوش قسمتی سے وہاں بہت پسند کیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے لیے دنیا بھر سے فوٹو جرنلسٹ ایپلائی کرتے ہیں۔ یہ ایوارڈ ایک سال میں صرف ایک ہی فوٹو جرنلسٹ کو دیا جاتا ہے۔’

یہ پوچھے جانے پر کہ کچھ لوگ یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ پولیس کی طرف سے مقدمہ درج ہونے کے کچھ ہفتے بعد ہی اس ایوارڈ کا اعلان کیوں سامنے آیا تو مسرت کا کہنا تھا: ‘بیشتر صحافتی ایوارڈوں کے لیے باضابطہ طور پر ایپلائی کرنا اور اپنا کام بھیجنا ہوتا ہے۔ میں ایسے کسی بھی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی ہوں۔’ کشمیر پریس کلب کے جنرل سکریٹری اشفاق تانترے نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ یہ ایوارڈ صرف مسرت زہرا کے لیے ہی نہیں بلکہ کشمیر کی پوری صحافتی برادری کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ انہیں یہ ایوارڈ ایک ایسے وقت میں ملا ہے جب انہیں مقدمے کا سامنا ہے۔ ہم ان کی مزید کامیابی اور جرات کی برقراری کے لیے دعا گو ہیں’۔

دریں اثنا مسرت زہرا کو آنجا نائیدرنگہاس کریج ایوارڈ کے لیے نامزد کیے جانے پر جہاں کشمیر کی صحافتی برادری میں خوشی و شادمانی کی لہر دوڑ گئی ہے وہیں سیاسی حلقوں وعوام و خواص کی طرف سے بھی سوشل میڈیا پر موصوفہ کو مبارک باد پیش کرنے اور ان کی کھینچی ہوئی تصویروں کو شیئر کرنے کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ مسرت زہرا سے قبل گذشتہ ماہ یعنی مئی میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے تین فوٹو جرنلسٹس ڈار یاسین، مختار خان اور چنی آنند، جو امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے ساتھ وابستہ ہیں، کو سال گذشتہ پانچ اگست کے بعد کشمیر میں پیدا شدہ انتہائی مخدوش حالات کی عکس بندی کرنے پر فیچر فوٹو گرافی کے زمرے میں سال 2020 کے پلٹزر پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading