
حسین قریشی موتلہ ضلع بلڈھانہ
آج پوری دنیا کرونا وائرس سے خوفزدہ ہوچکی ہیں لوگ بہت پریشان اور غمغین نظر آ رے ہیں ہر طرح کے لوگوں کے دماغ میں ڈرنے جگہ بنالی ہے جس کی وجہ سے زندگی مسائل میں گھر چکی ہیں ہم جانتے ہیں زندگی عمدہ پرمسرت گزارنے کے لیے دماغ کا مثبت سمت میں کام کرنا نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ صحت مند دماغ ہی صحت مند جسم پیدا کرتا ہے جیسی انسان سوچ رکھتا ہے ویسے خیالات پیدا ہوتے ہیں انسان کے اعمال کا دارومدار اسکے خیالات و احساسات پر ہوتا ہے اگر دماغ ہی صحیح سمت میں نہ ہو تو جسم کے تمام اجزاء متاثر ہوتے ہیں اسکی وجہ سے انسان مشکوک حالات میں چلا جاتا ہے اوراسے زندگی کی کوئی بھی چیز کوئی بھی خوشی نہیں دے سکتے کیونکہ وسائل سے دوستوں سے رشتے داروں یا کہیں بھی کسی بھی جگہ سے خوشی حاصل کرنا انسان کا انفرادی عمل ہوتا ہے جو اس کی سوچ پر منحصر ہوتا ہیں۔
دوسری اہم بات دماغ کی ترقی دماغ کا مضبوط ہونا حالات پر منحصر قطعی نہیں ہیں۔بلکہ انسان کے خیالات پر انحصار کرتا ہےیہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے متفکر ایکسپر سکالر باربار کہہ رہے ہیں کہ انسان نے صرف اپنے خیالات بدلنا چاہیے حالات ہیں نہیں کیونکہ خیالات بدل جانے سے ہر طرح کے حالات میں کام کرنے کا جذبہ دلی لگن اور جسم کا ساتھ ملتا ہے اور انسان کامیابی و کامرانی کا حصول کرتا ہے اسی بات پر عمل کرنے والوں نے دنیا میں اپنےنام روشن کیٔے ہیں
ہم بات کرتے ہیں کرونا وائرس کے بارے میں حکومت ہند نے تمام راستوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اس لیے کہیں دنوں سے ہم اس کرونا وائرس کے بارے میں معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کر رہے ہیں اس کو ختم کرنے کے لیے ہمیں جس بھی جانب سے معلومات مل رہی ہیں ہم اسے پوری توجہ سے دلگاکر اخذ کر رہے ہیں جسکی وجہ سے ہمارا دماغ ہر وقت اسے کے بارے میں ہمیں آگاہ کر تا رہتا ہے۔جس سے ہمیں دیگر کاموں میں موثر دلچسپی نہیں رہی ۔ایسے حالات میں ہمیں بہتر و منصوبہ بند طریقے سے وقت کو گزارنا چاہیے ہم پورا دن گھر پر موجود ہیں اور ذیادہ وقت اس کرونا کرونا پر گفتگو اسی کی خبریں اگر کسی کا فون آیا تو اس سے بھی کرونا کی ہی گفتگو کر رہے ہیں سو چئے اس سے ہمارے برتاؤ میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس لئے ہمارا ذہن تمختلف مسائل میں پڑ جاتا ہے اور جسم پر اسکا منفی اثر پڑتا ہیں ۔چیزیں دماغی حالات کے لحاظ صحیح یا غلط مثبت یا منفی طرز پر اثر انداز ہوتی ہیں ہوتی ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم کرونا وائرس مکمل معلومات حاصل کرلے اس سے بچاؤ کے طور طریقے بہتر طریقے سے تصدیق شدہ ذریعے سے حاصل کر لے اور اس پر سختی سے عمل کرے دےا ور بغیر ٹینشن کے اطمینان بخش طریقے سے موثر انداز میں اپنے پریوار کے ساتھ وقت گزارے۔ اب ہمیں روز گھنٹوں اسی کے بارے میں سننا نہیں ہیں اور نہ ہی کرونا وائرس پر ذیادہ گفتگو کر نی ہیں۔ اس پر ذیادہ میسجز دوستوں کو رشتہ داروں کو دوسروں کو بھیج بھیجنا بھی نہیں ہیں اگر ایسا کرتے ہیں تو اسکی وجہ ہمارا ذہن اس کرونا کے بارے ذیادہ نہیں سوچیگا اور ہمیں یہی کرنا ہے ذہن مثبت خیال رکھے گا تو جسم کے افعال برتاؤ ٹھیک ہونگے ہم بار بار ذیادہ وقت کرونا وائرس کے بارے میں سوچ کر باتیں کرکے جسم کو نقصان پہنچا رہے ہیں یہ بات ضروری کہ ہم پورے دن میں بیس تیس منٹ عالمی قومی ابڈیٹ خبریں دیکھتے اور سنتے رہیں اور جان لیں کہ حالات میں کیامثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ان باتوں پر عمل بھی کریں اسی طرح وائرس پر زیادہ سے زیادہ وقت نہ گزارے تاکہ دماغ میں ہر وقت ہر لمحہ کورونا وائرس کی باتیں گونجتی نہ رہے رہتی ہیں ہمیں چاہیئے ہم مندرجہ ذیل کاموں کو اپنائیں
دماغ کو مثبت و اچھی خوشگوار باتوں کی طرف راغب کرے۔ اور زندگی پر مسرت گزرے.گھر میں مثالی تعلیمی ماحول بنائیں نماز قرآن کی تلاوت اور حدیث کی تعلیم شروع کریں۔لوک ڈاون کی چھٹیوں کے دنوں کا منصوبہ تیار کریں۔بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں خود کروائیں
انٹر نیٹ پر ای مواد ہر زبان میں موجود ہیں اسے یو ٹیوب گوگل پر تلاش کریں۔گھر میں بچوں سے زیادہ سے زیادہ کام ان کی صلاحیتوں قابلیتوں اور دلچسپی کے لحاظ سے کروائیں کچھ وقت ای لرننگ کھیل میں خود حصہ لیتے ہوئے بچوں کے ساتھ انجوائے کرے۔
گھر کے کاموں میں حصہ لیں
روزانہ ڈیلی ڈائری تحریر کریں
اس میں آپ کس سے کیا خرید رہے ہو اسکی معلومات نام نمبر بھی لکھے جیسے سبزی دودھ کہاں سے لیا کس سے بات چیت ہوئی ان کا نام فون نمبر درج کرتے رہیں ۔اس سے ہمیں فائدہ ہیں حاصل ہوگا
مختلف اردو زبان کی تاریخی کتابیں دینی کتاب کا مطالعہ کرتے رہے اور اہم نکات اندراج کرے
اچھی اور مثبت سرگرمیوں میں پوری فیملی کو مصروف رکھیں ان سے خوش اخلاقی سے گفتگو کریں
کی پریشانی کو سمجھیں اور حکمت عملی سے کام لے
مستقبل کے ترقیاتی منصوبے بنانے کا کام کریں
بچوں کو زیادہ بولنے اور کرنے کا کا موقع فراہم کریں کریں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں پروان چڑھائیں آئی.لوگ لوگ ڈاؤن کی چھٹیوں میں گھر پر پر یہ کام کرنے سےزیادہ تر وقت کرونا وائرس پر فتح ہونا کریں
سوشل میڈیا پر پر بہت زیادہ وقت نہ گزارے رے
منفی خیالات کا اظہار نہ کریں بچوں کو اور فیملی ممبرز کو ان اس حالت کی اہمیت حکمت سے سمجھائیں نہ کہ ڈر پیدا کریں غصہ ٹینشن کو منتقل کرنے کاتبدیل کرنے کا طریقہ اپنأے