کرونا: تنخواہ میں تخفیف نہ کرنے کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا

نئی دہلی، 18 اپریل (یواین آئی) کرونا وائرس کووڈ۔19 کی وجہ سے پورے ملک میں بند کے دوران سبھی دکانیں، فیکٹریاں، پرائیویٹ اداروں میں ہر زمرے کے سبھی ملازمیں کو پوری تنخواہ دیئے جانے کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عذرداری داخل کی گئی ہے۔
سٹیزن شپ ایکسپورٹ لمٹیڈ کی جانب سے دائر عذرداری میں مرکزی حکومت کے 29 مارچ کے حکم کے آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ کمپنی سوتی کپڑے بنانے اور برآمدات سے جڑی ہیں۔
عرضی گذار کی دلیل ہے کہ جب فیکٹری میں پیداوار بند ہے اور کہیں سے بھی پیسہ نہیں آرہا ہے تو وہ اسٹاف کو تنخواہ دینے کے لئے کہاں سے پیسے لائیں ؟
عرضی میں کہا گیا ہے کہ پورے ملک میں بند کی وجہ سے کہیں سے بھی پیسہ نہیں آرہا ہے تو ایسے میں کم سے کم1500 ملازمین اور 150 دیگر ملازمین کو تنخواہ کہاں دیا جاسکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہےکہ تنخواہ کے لئے اسے کم سے کم پونے دو کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ایسے موقع پر ملازموں کو مدد کرنے کا ان کا بھی ارادہ ہے لیکن جب پیسے آئیں گے نہیں تو دیئے کہاں سے جائیں گے؟

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading