کرناٹک میں بڑا ریل حادثہ ٹل گیا

بیدر۔30؍اکتوبر۔(محمدامین نواز بیدر)اگر ارادہ نیک ہو تو مشکلات بھی راستہ روک نہیں سکتی۔ایک ایسی ہی مثال سامنے آئی ہے کہ ریاستِ کرناٹک کے اُوڈپی کے متوطن 53سال کے کرشنا پجاری کا کسی بیماری کی وجہ سے دایاں پیر کمزور ہوگیا تھا ‘جس کی وجہ سے انھیں چلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ایسی صورتحا ل میں ڈاکٹروں نے انھیں روزانہ صبح چہل قدمی کی صلاح دی ۔گذشتہ یو م صبح جب کرشنا چہل قدمی کیلئے گھر سے نکلے تو انھو ںنے دیکھا کہ برہا اسٹیشن کے ناگابانا کے قریب ریلوے کی پٹری ٹوٹی ہوئی ہے‘وہ سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کیا جائے ‘اسی وقت ایک ٹرین تیز رفتار سے وہاں گزری اس سے پٹری اورزیادہ ٹوٹ گئی ۔اس کے بعد بلا کسی تاخیر کے ایک پیر پر کرشنا نے دوڑ لگا ئی ‘اور تقریبا3کیلو میٹر کے فاصلہ تک دوڑ لگاکر پجاری نے ریلوے اسٹیشن کے عہدیداروں کو اس کی جانکاری دی فوری طورپر اس ٹریک پرسے گزرنے والی ٹرینوں کوروک دیا گیا اور حادثہ ہونے سے بچایا گیا۔کرشنا کی اطلاع ملتے ہی ریلوے عہدیداروں نے ٹوٹے ہوئے ٹریک پر پہنچنے والی ٹرینوں کو فوری طورپر رُکا دیا ۔عہدیداروں نے بتایا کہ ایک ٹرین کو ٹوٹی پٹری سے سات کیلو میٹر پہلے اور دوسری ٹرین کو18کیلو میٹر پہلے روک دیا گیا ۔کچھ دیر میں ہی ریلوے کے انجینئر موقع پر پہنچے اور پٹری کی مرمت کا کام شروع کیا گیا ۔تقریبا چالیس منٹ کے بعد ٹرینوں کو وہاں سے روانہ کیا گیا۔معلومات کے مطابق اُوڈپی کے کورنگرا پاڑی گائوں کے متوطن کرشنا پجاری کھانے کی ایک ہوٹل میں کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے۔اس کے پاس علاج کرانے کیلئے پیسے نہیں تھے ۔اس لئے ان کا ایک پیر بے حد کمزور ہوگیا ۔ڈاکٹروں نے پیرو ں کی مضبوطی کیلئے روزانہ چہل قدمی کی صلاح دی ۔گائوں کے قریب پٹریاں گذرتی ہیں اور وہ روزانہ صبح ان کے کنارے کنارے چہل قدمی کرتے ہیں ۔ان کے اس کارنامہ سے گائوں والے بھی بہت خوش ہوئے ۔کرشنا کہتے ہیں کہ ان کے ایک پیر میں بہت در دہورہا تھا لیکن دل میں یہی بات بیٹھ گئی تھی کہ اگر وقت پر اطلاع نہیں دی تو کئی لوگوں کی جان جاسکتی ہے۔ وہ دائیں پیر کی پرواہ کئے بغیر دوڑتے گئے ۔انھیں خوشی ہے کہ ایک بڑا حادثہ ٹل گیا ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading