نئی دہلی: کانگریس نے دہلی اور ملک کے عوام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے منگل کے روز کہا کہ وحشیانہ فسادات کے خاطیوں اور اصلی مجرموں، تشدد پسند عناصر اور انھیں مشتعل کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے۔
کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دار الحکومت نئی دہلی میں بے حساب اور اندھادھند تشدد، آگ زنی، پتھراؤ اور قتل کے متعدد واقعات نے ملک کا سینہ چھلنی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دہلی کے کئی حصوں میں تشدد ہی تشدد ہے اور یہ کسی کو بھی منظور نہیں ہے۔
کانگریس تشدد میں مارے گئے ہیڈکانسٹیبل رتن لال اور چار دیگر شہریویں کی موت پر شدید افسوس اور تکلیف اور پسماندگان کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ پارٹی دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنرامت شرما اور 100 سے زیادہ زخمی افراد کے جلد صحتیاب ہونے کی دعا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے اور اس کے مجرموں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔
کانگریس کے رہنما نے کہا کہ کچھ فرقہ پرست طاقتیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے گذشتہ کافی وقت سے سماج کو تقسیم کرنے اور مذہب کی بنیاد پر پولرائیزیشن کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دہلی اور ملک کے عوام سے فرقہ وارانہ یکجہتی قائم رکھنے اور ملک کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے والی فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرنے کی اپیل کرتی ہے۔ پارٹی ان وحشی فسادیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
سرجے والا نے کہا کہ جب کوئی غیر ملکی مہمان ہندوستان کے دورےپر ہو تو ایسے میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور پولیس کو بے حد حساس اور چوکنا ہونا چاہیے تھا لیکن مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی کی نومنتخب حکومت دارالحکومت میں ہونے والے تشدد، آگ زنی ، پتھراؤ اور قاتلوں سے اس طرح سے بے خبر اور انجان بنے ہوئے ہیں گویا لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) فسادیوں کے ہاتھ میں سونپ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر وزیر اعظم، وزیر داخلہ، دہلی کے وزیر اعلیٰ سے یقینی بنائیں کہ زمین پر امن ہو اور بھائی چارہ قائم رہے، انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر کانگریس کا ہر کارکن امن و آشتی اور بھائی چارہ قائم کرنے کے لیے ساتھ کھڑا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو