بنگلور:20جنوری ۔(ایجنسی)کرناٹک میں اتوار کو حکمراں کانگریس کے ممبران اسمبلی کی ایک ریزارٹ میں آپس میں ہاتھا پائی ہوگئی ، جس میں ایک ممبراسمبلی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمی رکن اسمبلی آنند سنگھ بلار? ضلع سے کانگریس ممبر اسمبلی ہیں اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق ممبر اسمبلی رہے ہیں۔مسٹر آنند کو شہر کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں وہ زیر علاج ہیں۔اس دوران کانگریس کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ڈی کے سریش نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ آنند سنگھ کو کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مسٹر سنگھ کو اسپتال میں دیکھنے گیا تھا، وہ آرام کر رہے ہیں ہیں، لیکن آپسی جھگڑے میں چوٹ لگنے کی میڈیا رپورٹ حقیقت سے پرے ہے۔کرناٹک کے نائب وزیر اعلی جی پرمیشور نے اس واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ریزارٹ کے اندر ہاتھا پائی کے کسی بھی واقعہ کی معلومات نہیں ہے۔اس درمیان بی جے پی لیڈر آر اشوک نے دعوی کیا کہ تنازعہ کے دوران مسٹر سنگھ کے پیٹ میں چاقو مارا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ادھر پارٹی کے اندرونی حالیہ سیاسی واقعات سے پریشان کانگریس پارٹی کی مرکزی اعلی قیادت ریاست میں جنتا دل (ایس)۔کانگریس اتحاد حکومت کو گرانے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کوششوں کو ناکام کرنے کے لئےزبردست محنت کر رہی ہے۔اس طرح کے امکانات ہیں کہ مرکزی قیادت ان غیر مطمئن ممبران اسمبلیوں کووزارت کی پیش کش کرسکتی ہے، جن کے بارے میں بی جے پی سے رابطہ میں ہونے کی رپورٹ ہے۔پارٹی کے اعلی ذرائع کے مطابق کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کے مقرب جنرل سکریٹری احمد پٹیل نے غیر مطمئن کانگریس ممبران اسمبلیوں سے بات چیت کرنے اور انہیں پارٹی سے استعفی دینے سے روکنے کے لئے ریاست کے کانگریس لیڈروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ نام نہ بتانے کی شرط پر کانگریس کے ایک سینئر کارکن نے یو این آئی کو بتایا کہ ’پارٹی کے مرکزی لیڈروں نے بی جے پی کی پیش کش کو ٹھکرانے والے غیر مطمئن ممبران اسمبلی کو وزارت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔