پردیش کے باغپت میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے لوگوں نے شروتی دیوی کی بے عزتی کر جین سماج کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے۔ شروتی دیوی جین سماج میں اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد باغپت پولس نے اے بی وی پی کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جین سماج کے لیڈر گورو جین نے اے بی وی پی کے ذریعہ کیے گئے ہنگامے کی سخت تنقید کی ہے اور ملزمین پر این ایس اے لگانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ جین سماج ہندوستان میں اقلیتی طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی ہندوستان میں تقریباً 50 لاکھ کی آبادی ہے۔
اے بی وی پی کارکنان نے باغپت واقع دگمبر جین کالج میں ’شروتی دیوی‘ مورتی کو لے کر ہنگامہ گزشتہ منگل کے روز کیا تھا، اور اس سلسلے میں جین سماج کے لوگوں نے بدھ کے روز ایک میٹنگ کی۔ بعد ازاں ایک جلوس نکال کر پیش آئے واقعہ کی سخت مذمت بھی کی گئی۔ پھر سماج کے معزز لوگوں نے کالج انتظامیہ کمیٹی کو عرضداشت پیش کی۔ دوسری طرف کالج پرنسپل نے کوتوالی میں اے بی وی پی کارکنان کے خلاف تحریری شکایت کی ہے۔ مغربی اتر پردیش کے کئی مقامات پر جین سماج نے میٹنگ کر اے بی وی پی کارکنان کی حرکتوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ باغپت کے علاوہ ہستنا پور، کھتولی، وہلنا اور سہارنپور میں سب سے زیادہ ناراضگی دیکھی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ منگل کے روز اے بی وی پی کارکنان کے ذریعہ بڑوت نگر واقع دگمبر جین کالج میں نصب مجسمہ کو متنازعہ بتاتے ہوئے احتجاج درج کیا گیا تھا۔ کالج گیٹ پر تالہ بندی کر کے انتظامیہ کمیٹی کو 7 دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے ’شروتی دیوی‘ کی مورتی ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد جین سماج کے لوگوں میں مایوسی اور ناراضگی دیکھنے کو ملی تھی۔ دگمبر جین کالج میں انتظامیہ کے ذریعہ یہ مورتی 2016 میں نصب کی گئی تھی جس کو ہٹوانے کے لیے منگل کے روز کالج احاطہ میں اے بی وی پی کارکنان نے ہنگامہ کیا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ جوتے چپل پہن کر اے بی وی پی کارکنان شروتی دیوی کی مورتی پر چڑھ گئے اور دیوی کے وقار کو ٹھیس پہنچائی۔ اس دوران کالج پہنچی پولس اور کالج اسٹاف سے اے بی وی پی کارکنان کی نوک جھونک بھی ہوئی تھی۔ گیٹ پر تالا لگائے جانے کے سبب کالج اسٹاف بھی اندر بند ہو گئے تھے۔