ڈیجیٹل بورڈ کے نام پر اسکول انتظامیہ کی ‘سہولت فیس’ کی جبری وصولی پر والدین کا احتجاج
تھانے کے والدین نے ضلع تعلیمی افسر سے شکایت درج کرائی، شفاف تحقیقات کا مطالبہ
تھانے شہر کےچرئی علاقہ میں واقع شری ماولی منڈل ہائی اسکول میں تعلیمی سال 2024-25 کے لیے ڈیجیٹل بورڈ کی سہولت فراہم کرنے کے نام پر طلباء کے والدین سے اضافی ‘سہولت فیس’ وصول کی جا رہی ہے۔ والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر یہ رقم ادا نہ کی گئی تو اسکول انتظامیہ ان کے بچوں کا اگلے تعلیمی سال میں داخلہ روکنے اور ترقی نہ دینے کی دھمکی دے رہی ہے۔
والدین کے مطابق 22 اپریل کو اسکول کی جانب سے منعقدہ ‘اوپن ڈے’ کے دوران انہیں مطلع کیا گیا کہ ڈیجیٹل بورڈز کے لیے مقرر کردہ فیس، جو بعض کلاسوں میں 10,000 روپے تک ہے، اگر ادا نہ کی گئی تو طلباء کو اگلی جماعت میں پروموٹ نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، والدین کو امتحانی جوابی پرچہ بھی نہیں دکھائی گئیں اور ان سے تحریری طور پر ایک بیان طلب کیا گیا جس میں فیس ادا کرنے کی تاریخ کا ذکر ہو۔
اس جبر کے خلاف والدین نے تھانے کی ضلع تعلیمی افسر للیتا دہیتولے سے ملاقات کی اور ایک تحریری شکایت پیش کی۔ اس موقع پر گریجویٹ حلقے کے ایم ایل سی ایڈوکیٹ نرنجن داوکھرے بھی موجود تھے، جنہوں نے والدین کی حمایت کرتے ہوئے حکام سے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔
والدین نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال اسکول کی جانب سے 15 فیصد فیس اضافہ قبول کیا گیا تھا، تاہم اس سال علیحدہ ‘سہولت فیس’ عائد کرنا ان کے لیے ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب کہ کئی خاندان مالی طور پر کمزور ہیں اور ان کے ایک سے زیادہ بچے اسی اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔
متعدد والدین نے یہ بھی شکایت کی کہ اسکول انتظامیہ نے انہیں فرداً فرداً بلایا اور دباؤ ڈال کر فیس وصول کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ادا کی گئی فیس کی رسیدیں سادہ کاغذ پر فراہم کی گئیں جن پر نہ تو اسکول کا نام تھا اور نہ ہی کوئی مہر ثبت تھی۔
ضلع تعلیمی افسر للیتا دہیتولے نے والدین کو یقین دلایا کہ معاملے کی جانچ کے لیے ایک خصوصی میٹنگ منگل کو ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کی صدارت میں منعقد کی جائے گی، جس میں اسکول کے سی ای او اور والدین کے نمائندے موجود ہوں گے۔
والدین نے واضح کیا کہ وہ اسکول کی تعلیمی بہتری یا سہولتوں کی فراہمی کے مخالف نہیں ہیں، لیکن ‘سہولت فیس’ کے نام پر مالی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فیس وصولی کا عمل شفاف، معقول اور والدین کی مالی سکت کے مطابق ہو۔
