اس سال اگست میں نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے اس سے لداخ کو علیحدہ کر دیا تھا اور وہاں سے آرٹیکل 370 کو ہٹاکر وہاں کے خصوصی درجہ کو ختم کر دیا تھا۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کے بعد پاکستان میں بے چینی پیدا ہو گئی تھی، اس نے اس معاملہ کو کئی فورم پر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ اگست میں اپنے اتحادی پاکستان کے کہنے پر چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مدا اٹھایا تھا اور اب ایک مرتبہ پھر چین نے یہ مدا اٹھایا ہے۔
ایک سفارتکار کے حوالہ سے نیوز 18 میں شائع خبر کے مطابق چین کی درخواست پر آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر بند کمرے میں تبادلہ خیال ہو گا۔ 12 دسمبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے خطہ میں ممکنہ تناؤ بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
رائٹر کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مشن نے سلامتی کونسل کو ایک نوٹ لکھا ہے جس میں تحریر ہے کہ ’’صورتحال کی سنجیدگی اور بڑھتے خطرے کے پیش نظر چین پاکستان کی درخواست کے ساتھ ہے اور کونسل سے درخواست کرتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کرے۔‘‘ نام نہ بتانے کی شرط پر سفارتکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز یعنی آج یہ میٹنگ ہونی ہے۔
جموں و کشمیر دونوں ممالک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناؤ کی وجہ رہا ہے اور حال ہی میں مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد پاکستان کی جانب سے مستقل اس مدے کو بین الاقوامی فورم پر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان جہاں ایک معاہدہ ہو چکا ہے وہیں سلامتی کونسل کی کئی قرارداد بھی آچکی ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
