رائے پور ۔ 11 نومبر ( پی ٹی آئی ) چھتیس گڑھ میں کل پیر کو اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ اس مرحلہ کیلئے تقریبا ایک لاکھ سکیوریٹی اہلکاروں کو انتخابی ڈیوٹی پر متعین کیا گیا ہے جبکہ پولنگ کے دوران ماویسٹوں کے خطرات بھی ہیں جنہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے ۔ پہلے مرحلہ کی 18 اسمبلی نشستیں نکسلائیٹس سے متاثرہ 8 اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں۔ نکسلائیٹ تنظیموں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا ہے اور گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران ماویسٹوں نے تقریبا چھ حملے کئے ہیں ۔ ان میں تین حملے بڑے تھے جس کے نتیجہ میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں دوردرشن کا ایک کیمرہ مین بھی شامل ہے جو انتخابی مہم کی تشہیر کے سلسلہ میں وہاں گیا ہوا تھا ۔ پولیس کے بموجب انتخابی عملہ کو پولیس کی حفاظت میں ان کے مقامات تک منتقل کرنا اور پھر انہیں انتخابات کے بعد اپس لانا نکسلائیٹس سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مشکل کام ہے ۔ چھتیس گڑھ کے اسپیشل ڈائرکٹر جنرل ( انسداد نکسلائیٹس کارروائیاں ) ڈی ایم اوستھی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ تقریبا ایک لاکھ سکیوریٹی اہلکاروں کو انتخابی ڈیوٹی پر متعین کیا گیا ہے جن میں مرکزی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ اس تعیناتی کا مقصد پہلے مرحلہ کی رائے دہی کو پرامن بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماویسٹوں کی کسی بھی امکانی کارروائی سے نمٹنے اور جواب دینے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جو پولیس فورس متعین کی گئی ہے ان میں مرکزی نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ مرکزی نیم فوجی دستوں کی جملہ 650 کمپنیاں یہاں متعین کی جا رہی ہیں جن میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس ( سی آر پی ایف ) بارڈر سکیوریٹی فورس ( بی ایس ایف ) اور آئی ٹی بی پی ( انڈو تبت بارڈر پولیس ) کے دستے بھی شامل ہیں۔ کچھ ریاستی فورسیس کو بھی یہاں متعین کیا گیا ہے ۔ مسٹر اوستھی نے بتایا کہ جو مرکزی دستے اور ریاستی پولیس اہلکار انسداد ماویسٹ سرگرمیوں میں پہلے سے یہاں متعین ہیں وہ ان کے علاوہ ہونگے ۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا 650 پولنگ بوتھس کے عملہ کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ ہفتے کو ہی ان کے مقامات تک پہونچادیا گیا ہے جبکہ دوسری ٹیموں کو اتوار کو روانہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کیلئے انڈین ائر فورس اور بی ایس ایف کے ہیلی کاپٹرس کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ تمام پولنگ عملہ کو نکسلائیٹس سے متاثرہ علاقوں میں ان کے مقامات تک بحفاظت پہونچایا جائے اور پھر رائے دہی کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں یہاں واپس لایا جائے ۔ یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ ماویسٹوں کی جانب سے سکیوریٹی عملہ کو نشانہ بنانے عصری دھماکو مادے نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ اس لئے اس طرح کے امکانی علاقوں میں تمام حالات پر نظر رکھنے انتہائی چوکسی اختیار کی گئی ہے ۔ مسٹر اوستھی نے کہا کہ دوسری ریاستوں سے بھی پولیس فورس کو طلب کیا گیا ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جب تک سڑکوں کو ماویسٹوں سے پاک کرنے والی ٹیمیں اجازت نہ دیں وہ کسی نئے راستے کا استعمال نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ سکیوریٹی اہلکاروں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ پیدل پٹرولنگ نہ کریں کیونکہ ماویسٹوں کی جانب سے انہیں زخمی کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سکیوریٹی عملہ کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بہت زیادہ چوکسی اختیار کریں اور حساس علاقوں میں پہلے پولنگ بوتھس اور دوسرے مقامات کی مکمل تلاشی کرلی جائے ۔ گذشتہ 10 دن کے دوران بستر علاقہ سے تقریبا 300 انتہائی عصری دھماکو مادے دستیاب کئے گئے ہیں ۔ یہ کارروائیاں راج نند گاوں میں بھی انجام دی گئی ہیں۔ ریاستی پولیس کے ایک اور عہدیدار نے کہا کہ جملہ 198 پولنگ بوتھس کو آٹھ اضلاع میںدوسرے مقامات کو منتقل کیا گیا ہے ۔