ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ پرائیویٹ میں دینے کی تجویز منسوخ کرنے کی فریاد کانگریس اعلی کمان کے دربار میں
بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی شہر میں ان دنوں میونسپل کارپوریشن کے ٹیکس وصولی کا کام پرائیویٹ ادارے کو دینے کی تجویز کی چوطرفہ وسیع پیمانے پر مخالفت ہو رہی ہے ۔ جسے لیکر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر خالد گڈو نے 12 تاریخ کو زبردست احتجاج کرنے کے لئے عوامی سطح پر جن آکروش ریلی نکال رہے ہے جہاں وہ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کریں گے ۔وہیں سماجوادی پارٹی کے چئیرمین عرفات شیخ نے اعلان کیا ہے کے وہ 13 تاریخ کو ہونے والی مہاسبھا کے دوران صبح 11 بجے سے ہی کارپوریش دفتر کا گھیراوں کریں گے اور جب تک یہ تجویز رد نہیں ہوجاتی وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گے۔ حالات اتنے دھماکہ خیز ہو گئے ہے کہ بھیونڈی کارپوریشن میں حکمراں کانگریس پارٹی کے اندر ہی پارٹی عہدیداران اور کارپوریٹروں میں اس پیچیدہ مسئلے کو لے کر دو دھڑے بن گئے ہے ۔ کانگریس پارٹی کے زیادہ تر کارپوریٹرز اور عہدیداران ٹیکس وصولی کا کام پرائیوٹ کمپنی کو سونپنے کی زبردست مخالفت کر رہے ہے ۔وہیں پردیش کانگریس کمیٹی کے رکن سلام شیخ اور بھیونڈی شہر ضلع کانگریس کمیٹی سیوادل کے صدر اشفاق ہاشمی نے قومی کانگریس صدر راہل گاندھی، پردیش کانگریس کمیٹی کے انچارج ملک ارجن کھڑگے، اور ریاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان کو تحریری مکتوب بھیج کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس میئر جاوید دلوی کے ذریعہ آنے والی جنرل اجلاس میں لائی جانے والی تجویز نمبر 8 جس میں بھیونڈی نظام پورہ شہر مہانگرپالیكا کے ٹیکس کی وصولی کرنے کا ٹھیکہ پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے جانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دے۔ کانگریسی لیڈروں اور کارپوریٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی اعلی کمان سے کہا کہ اگر یہ تجویز مہاسبھامیں منظور کرایا گیا تو بھیونڈی شہر میں کانگریس پارٹی کو آئندہ تمام انتخابات میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ وہیں کانگریس کے سابق رکن پارلیمان سریش کاشی ناتھ ٹاورے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تجویز "کہیں پر نگاہیں اور کہیں پر نشانا ہے "۔ رکن پارلیمنٹ سریش ٹاورے نے براہ راست الزام لگایا کہ یہ رجویز صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے لائی گئی ہے جبکہ اس کا اصلی مقصد اس تجویز کی آڑ میں بھیونڈی میں بھرشٹاچار کی وجہ سے بند کرائی گئی انڈر گراونڈ ڈرینیچ لائن یوجنا کو منظوری دینا اور اسے پھر سے شروع کرانا ہے ۔ سابق رکن پارلیمان شریس کاشی ناتھ ٹاورے نے اس طرح کے کاموں پر اپنا عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو گمراہ کرکے کوئی بھی کام کرنا مناسب نہیں ہوگا ۔ ٹیکس وصولی جمع کا کام اپنی جگہ ہے ۔اسے ریاست کی دیر مہا نگر پالیکا کی طرح یہاں بھی سختی ٹیکس وصول کیاجا سکتا ہے ۔ لیکن مفاد عامہ کے خلاف جا کر عوام کے اوپر نجکاری کا بوجھ ڈالنا ٹھیک نہیں ہے ۔اس طرح آہستہ آہستہ میونسپل کے تمام کاموں کی نجکاری کر دی جائے گی تو اس میں چن کر گئے عوامی نمائندے اور ساڑھے چار ہزار میونسپل افسران اور ملازمین کیا کام کریں گے؟ سابق ایم پی نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تجویز پاس ہوئی تو وہ پارٹی کے مفاد میں نہیں ہو گا اس سے بھیونڈی شہر میں پارٹی بالکل الگ تھلگ بٹ کر کمزور ہو جائے گی اس لیے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔