ہندوستان نے آر سی ای پی یعنی ’ریجنل کمپریہنسو اکونومک پارٹنرشپ‘ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ وہ ملک کی فکر سمجھتے ہیں اور گھریلو صنعتوں کے مفاد کو لے کر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا ہے۔ آر سی ای پی ایک ٹریڈ ایگریمنٹ (تجارتی معاہدہ) ہے جو رکن ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تجارت میں کئی سہولیت دے گا۔ اس کے تحت درآمدگی پر لگنے والا ٹیکس نہیں دینا پڑے گا یا پھر اس کی شرح بہت کم ہوگی۔ اس معاہدہ میں آسیان کے 10 ممالک کے ساتھ 6 دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔
Sources: India decides not to join Regional Comprehensive Economic Partnership (RCEP) agreement. PM stands firm as key concerns not addressed; there will be no compromise on core interests. RCEP agreement does not reflect its original intent. Outcome not fair or balanced. pic.twitter.com/o058sJZnOn
— ANI (@ANI) November 4, 2019
دراصل اس معاہدے میں ہندوستان کے شامل ہونے کا ملک بھر کے کسان مخالفت کر رہے تھے۔ کسان تنظیموں نے اسے لے کر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا اور احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ کسانوں کی دلیل تھی کہ اگر یہ معاہدہ ہوا تو ملک کے ایک تہائی بازار پر نیوزی لینڈ، امریکہ اور یوروپی ممالک کا قبضہ ہو جائے گا اور ہندوستان کے کسانوں کو ان کے پروڈکٹ کی جو قیمتیں مل رہی ہیں، وہ مزید کم ہو جائیں گی۔
دوسری طرف اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمنوے سمیتی نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان آر سی ای پی کے معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو ملک کے زراعتی سیکٹر پر بہت برا اثر پڑے گا، اتنا ہی نہیں ہندوستان کی ڈیری صنعت پوری طرح سے برباد ہو جائے گی۔ تنظیم کے کنوینر وی ایم سنگھ کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں چھوٹے کسانوں کی آمدنی کا واحد ذریعہ دودھ پروڈکشن ہی بچا ہوا ہے، ایسے میں اگر حکومت نے آر سی ای پی سمجھوتہ کیا تو ڈیری صنعت پوری طرح سے تباہ ہو جائے گا اور 80 فیصد کسان بے روزگار ہو جائیں گے۔
لیکن ہندوستان نے واضح کر دیا تھا کہ وہ غیر جانبدار اور شفاف معاہدہ میں ہی شامل ہوگا۔ بینکاک میں چل رہے آسیان اعلیٰ سطحی سمیلن میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں آر سی ای پی کا تذکرہ تک نہیں کیا تھا۔
Govt Sources: India’s stand is a mixture of pragmatism,the urge to safeguard interests of poor and effort to give an advantage to India’s service sector. While not shying away from opening up to global competition across sectors.(file pic). #RCEP pic.twitter.com/ZiTg293f0c
— ANI (@ANI) November 4, 2019
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آر سی ای پی سمجھوتہ ہوتا تو ہندوستانی بازار میں چینی سامان کا سیلاب آ جاتا، کیونکہ چین کی امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ جاری ہے اور اسے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں اس نقصان کا ازالہ وہ ہندوستان اور دوسرے ممالک کے بازار میں اپنا سامان فروخت کر کے کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے آر سی ای پی سمجھوتے کو لے کر چین سب سے زیادہ اتاؤلا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
