ناندیڑ:13ڈسمبر ( ورق تازہ نیوز)آئندہ دس تا بارہ سالوں میں دنیا کا تعلیمی نظام و طریقہ تدریس یکسر بدل جائے گا ۔اسکول اور ٹیچر غائب ہو جائیں گے ان کی جگہ معمولی سا سم کارڈ لیے لے لئے گا۔ تعلیم انٹرنیٹ کے ذریعے دی جائے گی۔ طلبہ اپنے گھر میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں گے۔ اس نئے نظام تعلیم پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کو اپنانے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار عالم شہرت یافتہ ماہر معاشیات وہ تعلیمات ڈاکٹر ابو صالح شریف (ساکن واشنگٹن ڈی سی) کر رہے تھے ۔
بروز ہفتہ9 دسمبر 2023 کو دو بار2 بجے اردو گھرناندیڑ میں ایک مذاکرہ رکھا گیا تھا جس کے صدارت معروف عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن قاسمی نے کی۔ مذاکرہ کے عنوان ”اقلیتوں کی موجودہ تعلیمی صورتحال اور اردو طلبہ کے مسائل پر“ مدلل اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر شریف نے کہا کہ ساری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ستم ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک کو چھوڑ کر یورپ‘ امریکہ وغیرہ ممالک میں سکونت اختیار کرنی پڑ رہی ہے ۔
امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں جمعہ کے دن 60 مساجد میں نماز ہوتی ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاو¿س میں ایک ہال جمعہ کی نماز کے لیے مختص ہے ۔اسلام اور مسلمانوں کو چاہنے والے پوری دنیا میں ہیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگ اسلام مخالف بھی ہیں ۔سب زیادہ سب سے زیادہ مسلمان انڈیا میں ہے انڈیا کے بچوں کی مانگ پوری دنیا میں ہے۔
انڈیا میں بہت زیادہ مواقع ہیں جن سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ ہمیں دھیان رکھنا ہے کہ انڈیا کے مسلمان پوری دنیا کی ترقی کے لیے بہت کارآمد ہے ۔ہم عالمی شہری اس وقت بن سکتے ہیں جب ہم میں محنت لگن تعلیمی ترقی کا جذبہ ہونا چاہیے ملک کے قومی پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔اس موقع پر صدر پروگرام حضرت مفتی خلیل الرحمن قاسمی ‘محمد شفیع احمد قریشی ‘ڈاکٹر بشارت علی (پرنسپل لا کالج ناندیڑ) نے بھی تقریر کی۔
نظامات کے فرائض ڈاکٹر محمدآصف نے انجام دیے۔ یہ مذاکرہ مولانا آزاد وچا ر منچ ضلع ناندیڑ کے زیر اہتمام منعقد ہوا اور ادارہ روزنامہ ” ورق تازہ “ناندیڑنے اپنا تعاون اشتراک دیا۔ منچ کے ضلع صدریوسف خاں پٹیل نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس مذاکرے میں بڑی تعداد میں شہریان بالخصوص جونیئر کالج کی طالبات اور طلبا ¾ کثیر تعداد میں موجود جو تھے۔