’پچ پر10 ملی میٹر گھاس چھوڑ دی گئی۔۔۔‘ ’ہارڈ، فاسٹ اور باؤنسی پچ۔۔۔‘ ’اس میں سے پچ کونسی ہے اور گراؤنڈ کون سا ہے۔۔۔‘پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ پرتھ کے آپٹس سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے اور کھیل کا آغاز ہونے سے پہلے ہی پچ موضوعِ بحث ہے۔
اس بحث میں صرف پرتھ کی ہی نہیں بلکہ کینبرا کی پچ کے بارے میں بھی محمد حفیظ کی جانب سے کی گئی تنقید شہ سرخیوں کا حصہ بنی رہی تھی۔
کینبرا میں پاکستان نے پرائم منسٹر الیون کے ساتھ پریکٹس میچ کھیلا تھا جو بے نتیجہ رہا تھا تاہم حفیظ نے اس میچ میں ’سلو پچ‘ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کینبر میں ملنے والی پچ پر مجھے حیرت بھی ہے اور مایوسی بھی ہوئی۔
’یہ آسٹریلیا میں بطور مہمان ٹیم اب تک کی سب سے زیادہ سلو وکٹ تھی جس پر ہم کھیلے، شاید یہ ان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو لیکن ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
تاہم اب پاکستان کا پہلا ٹیسٹ میچ پرتھ میں ہے جہاں آپٹس سٹیڈیم کی تازہ پچ پاکستان بلے بازوں کا انتظار کر رہی ہے اور اس کے بارے میں پچ کیوریٹر ایزاک مکڈونلڈ نے کہا ہے کہ ’یہاں کی کنڈیشنز ایک ہارڈ، فاسٹ اور باؤنسی پچ بنانے کے لیے انتہائی سازگار تھیں۔‘

انھوں نے پچ پر گھاس چھوڑنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس پر ابھی 10 ملی میٹر گھاس ہے لیکن ابھی ایک دن اور ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ میچ شروع ہونے تک بھی اتنی ہی گھاس ہو گی، میرا ہدف کم گھاس رکھنا ہے۔‘
تاہم یہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ یہ پچ جس کی تصویر سوشل میڈیا پر آتے ہی پاکستانی مداحوں کو اپنے بلے بازوں کی فکر لاحق ہو گئی تھی صرف تین ہفتے پہلے ہی اس گراؤنڈ میں لائی گئی ہے۔
اس پچ کو قریب ہی موجود پرتھ کے تاریخی واکا کرکٹ گراؤنڈ کی مٹی اور گھاس سے بنایا گیا اور اس بارے میں پچ کیوریٹر کو یہی امید ہے کہ یہ وکٹ واکا گراؤنڈ کی تاریخی پچ کی طرح اچھا پیس اور باؤنس فراہم کرے گی۔
تاہم اس پچ پر اس وقت تنقید ہوئی تھی جب سنہ 2022 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جانے والا میچ پانچویں دن تک گیا تھا کیونکہ پچ بہت فلیٹ تھی اور اس میں پانچ روز میں زیادہ تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔
اس لیے جہاں ایک جانب مداحوں کو ڈر ہے کہ کہیں پاکستان بلے باز اس پچ کا باؤنس اور پیس سہہ نہ پائیں وہیں یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ اگر یہ پچ بھی ویسٹ انڈیز والے میچ کی طرح آغاز میں باؤنس اور پیس کے بعد وقت کے ساتھ فلیٹ ہی رہی اور اس میں تبدیلی نہ آئی تو یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس سب کے باوجود آسٹریلیا اب تک اس گراؤنڈ میں کھیلے گئے تینوں میچ بھاری مارجن سے جیتنے میں کامیاب ہوا ہے اور تینوں میں ہی آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کی تھی۔کیا آپ نے کبھی برفی کے مواد کو کٹائی سے قبل مختلف مستطیل سانچوں میں پڑے دیکھا ہے؟
تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیں کہ برفی کی چوکور ڈلیاں کاٹنے کی بجائے کسی ایک سانچے کو بغیر چھیڑے ہی الٹ دیا جایا تو اسی سانچے کی طرح مستطیل مواد آپ کو سامنے پڑا دکھائی دے گا۔
کرکٹ میں جدید ڈراپ ان پچز لگ بھگ اسی طرز پر تیار ہوتی ہیں۔
انھیں گراؤنڈ سے باہر کسی نرسری، گرین ہاؤس یا کبھی کسی دوسرے گراؤنڈ میں ایک سٹیل کے سانچے یا ٹرے میں رکھا جاتا ہے اور پھر آسٹریلیا میں کرکٹ سیزن کی آمد پر انھیں گراؤنڈ میں اتارا جاتا ہے۔
ان پچز کو جہاں تیار کیا جاتا ہے وہاں ان کی دیکھ بھال بالکل ویسے ہی کی جاتی ہے جیسے کسی عام پچ کی اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ میچ سے پہلے یہ مکمل طور پر تیار ہوں۔
گراؤنڈ تک پچ پہنچانے کا عمل خاصا دلچسپ اور دیکھنے کے لائق ہے۔ یہ سب کچھ ایک دیو ہیکل کسٹمائزڈ ٹرالر کی مدد سے ممکن ہو پاتا ہے جو اس مٹی اور گھاس کے مجموعے کو گراؤنڈ تک پہنچانے اور پچ کی مخصوص جگہ پر اتارنے میں مدد کرتا ہے۔
آپٹس سٹیڈیم میں اس ٹرالر کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلایا جاتا ہے اور بغیر کسی مشکل کے پچ کو اس کی جگہ پر اتارنے کا کام مکمل کر لیا جاتا ہے۔
عموماً جس جگہ پر پچ کو اتارا جاتا ہے وہاں پہلے سے سیمنٹ سے لیپائی کی جاتی ہے۔ یوں پچ دراصل مٹی میں نہیں بلکہ سیمنٹ کے فرش پر اترتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ پچ مٹی میں اپنی جگہ نہ پکڑ پائے اور اسے باآسانی واپس نکالا بھی جا سکے۔
عموماً انھیں نکالنے کے بعد اس خالی جگہ پر ریت کا بلاک ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس پر آرٹیفشل گھاس ڈال کر اسے کسی دوسرے کھیل جیسے آسٹریلین رولز فٹبال، رگبی یا کسی کانسرٹ کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے۔
یوں آسٹریلیا جیسے ممالک جہاں کرکٹ مقبول ترین کھیل نہیں، وہاں گراؤنڈز کا مختلف کھیلوں اور تقریبات کے لیے استعمال ان کے لیے معاشی پائیداری کا باعث بنتا ہے۔کرکٹ کے کھیل میں پچز کو انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ لگ بھگ 22 یارڈ کی پچ میچ کے نتیجے پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
پچ بنانا یعنی اس کی کیوریشن باقاعدہ طور پر پڑھائی جاتی ہے اور کس علاقے میں اس کے موسم کے اعتبار سے کون سی مٹی سازگار رہے گی اور اس کے باعث اس پچ کی نیچر میں کیا تبدیلی آئے گی یہ سب کچھ گراؤنڈ سٹاف اور پچ کیوریٹر کو معلوم ہوتی ہے۔
مختلف گراؤنڈز کی پچز کے بارے میں مختلف باتیں مشہور ہیں۔ جیسے ایڈیلیڈ کی پچ سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے جبکہ پرتھ کے پرانے گراؤنڈ واکا کی پچ پیس اور باؤنس کے لیے خاصی مشہور تھی۔ اسی طرح انڈیا اور پاکستان میں پچز سپنرز کے لیے زیادہ موزوں ہوتی ہیں۔