چندریان-2: آخری 15 منٹوں میں کیوں تھم جائیں گی سائنسدانوں کی سانسیں!

خلاء میں تاریخ رقم کرنے کے لیے ہندوستان پوری طرح تیار ہے۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے قبل چاند پر ہندوستانی پرچم لہرانے کے لیے چلا چندریان-2 جمعہ کی دیر شب یعنی ہفتہ کی علی الصبح اس کی سطح پر اترے گا۔ امید ہے کہ چندریان-2 کا لینڈر ’وکرم‘ رات 1.30 سے 2.30 بجے کے درمیان چاند پر قدم رکھے گا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان ایک نیا تاریخ رقم کر دے گا۔ یہ ایسا لمحہ ہوگا جب دنیا بھر کی نگاہیں ہندوستانی مشن پر ہی مرکوز ہوں گی۔ چاند پر اترنے سے قبل کا 15 منٹ سائنسدانوں کے لیے سانسیں تھامنے والا ہوگا۔

دراصل آخری 15 منٹ چندریان-2 کے لیے بہت بڑا امتحان ہوگا۔ لینڈر وکرم کی سافٹ لینڈنگ کے بعد ہی اس مشن کو کامیاب مانا جائے گا۔ آئیے جانتے ہیں کہ آخر کے 15 منٹ میں ایسا کیا ہوگا جو اِسرو کے سائنسدانوں کی پیشانی پر شکن لانے والا ہے۔ آخر کیوں اس 15 منٹ کے درمیان سائنسداں خوف میں ہوں گے…!

  • جمعہ کی دیر رات ڈیڑھ بجے کے بعد لینڈر ’وکرم‘ کی اسپیڈ تقریباً 6 کلو میٹر فی سیکنڈ کر دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو یہ رفتار 21600 کلو میٹر فی گھنٹہ کی ہوگی۔
  • لینڈنگ کے آخری 15 منٹ کے دوران لینڈر ’وکرم‘ کی اسپیڈ کو بے حد کم کرنا ہوگا۔ اس کی موجودہ اسپیڈ 6 کلو میٹر فی سیکنڈ سے گھٹا کر 2 میٹر فی سیکنڈ پر لانا ہوگا۔ یعنی 7 کلو میٹر فی گھنٹہ۔ اچانک اتنی رفتار کو کم کرنا سائنسدانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
  • خلاء میں لینڈر وکرم کی رفتار کو کم کرنے کے لیے تھرسٹر کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سے اسپیس کرافٹ کی اسپیڈ بڑھائی جاتی ہے۔ لیکن الٹی سمت میں اس کے استعمال سے اسپیس کرافٹ کی اسپیڈ کم ہوتی ہے۔ اسپیس کرافٹ اپنی آگے بڑھنے کی سمت میں ہی تھرسٹر کا استعمال کرے گا جس کی وجہ سے رفتار کم ہو جائے گی۔
  • لینڈر وکرم کو یہ بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ کہاں لینڈ کر رہا ہے۔ یعنی وہ جگہ میدان ہے یا نہیں۔
  • لینڈر کے چاند پر اترنے کے تقریباً 3 گھنٹے بعد اس کے اندر سے روؤر ’پرگیان‘ باہر نکلے گا۔
  • اِسرو کے سربراہ کے. سیون نے کہا ہے کہ ’سافٹ لینڈنگ‘ دلوں کی دھڑکن تھام دینے والا ثابت ہونے جا رہا ہے کیونکہ اِسرو نے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا ہے۔
  • اِسرو اس لیے بھی خوف میں ہے کیونکہ اس سال اپریل میں ہی اسرائیل کا ایک مشن ناکام ہو گیا تھا۔ اسرائیلی سائنسداں لینڈر کی رفتار کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اور چاند پر تیز رفتاری کے ساتھ یعنی ’کریش لینڈنگ‘ ہو گئی تھی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading