شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں۔ خواتین ان مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ دہلی، اتر پردیش، بہار، مہاراشتر، مغربی بنگال کی طرح جنوب کی ریاستوں میں بھی شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ جاری ہے اور دن بہ دن اس میں شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس درمیان 14 فروری کو چنئی کے ’واشرمان پیٹ‘ میں لوگوں نے زبردست دھرنا و مظاہرہ کیا۔ پولس نے اس دھرنا و مظاہرہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مظاہرین اور پولس کے درمیان تصادم ہو گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مظاہرین پر پولس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا جس میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
#WATCH: Scuffle broke out between Police & protestors who were demonstrating against Citizenship Amendment Act (CAA) and National Register of Citizens (NRC) at Washermanpet in Chennai, yesterday evening. Over 100 protestors have been detained. #TamilNadu pic.twitter.com/5YpiCN2tgw
— ANI (@ANI) February 14, 2020
میڈیا ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام مظاہرین سی اے اے اور این آر سی کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے اور مودی حکومت کے خلاف بھی نعرہ بازی ہو رہی تھی۔ جب پولس نے انھیں مظاہرہ ختم کرنے کے لیے کہا تو مظاہرین نہیں مانے جس کے بعد پولس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس لاٹھی چارج سے کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔ خبروں کے مطابق 100 سے زیادہ مظاہرین کو پولس نے حراست میں بھی لے لیا ہے۔
مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگ انّا سلائی واقع ماؤنٹ روڈ درگاہ کے پاس احتجاجی مظاہرہ کرنے لگے۔ پولس نے وہاں بھی انھیں روکنے کی کوشش کی اور بیرکیٹنگ کرنے لگے۔ اس بیریکیٹنگ کو مظاہرین ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ پولس نے جب انھیں روکا تو تصادم شروع ہو گیا۔ پولس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ اس پورے معاملے میں پولس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے پتھراؤ میں کچھ پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور جوابی کارروائی میں لاٹھی چارج کیا گیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو