ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی اورنگ آباد میں جمعہ کے دن کشیدگی پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کے ایک گروپ نے پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوکر ایک ہندو مذہبی رہنما کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جس نے پیغمبر اسلامؐ کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کیا تھا۔
مسلمانوں کی بڑی تعداد سٹی چوک پولیس اسٹیشن کے سامنے اکھٹا ہوئی۔ اُس نے مطالبہ کیا کہ پیغمبر اسلام ؐ اور اسلام کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے رام گری مہاراج کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سٹی چوک پولیس اسٹیشن کی انسپکٹر نرملاپردیسی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھیں۔
वैजापूर मधे जिहादी झुंड चा नंगा नाच सुरू. ह भ प रामगिरी जी महाराजांच्या विरुद्ध जागो जागी प्रदर्शन.
प्रतिक्रिया साठी हिंदू ही रस्त्यावर उतरण्याच्या तयारीत. #ब्रेकिंग #BREAKING pic.twitter.com/iy47TQhJoR— Sudarshan मराठी (@SudarshanNewsMH) August 15, 2024
انہوں نے تیقن دیا کہ ان کے مطالبہ کا نوٹ لیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران مراٹھی نیوز چینل اے بی پی ماجھا سے بات چیت میں رام گری مہاراج نے ان کے بیان پر تنازعہ پر کہا کہ ہندوؤں کو الرٹ رہنا چاہئے، میں نے وہ کہا جو میں کہنا چاہتا تھا، میں اپنی بات پر قائم ہوں اور نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں۔
वैजापूर, येवल्यात रामगिरी महाराजांवर गुन्हा दाखल, रामगिरी महाराज वक्तव्यावर ठाम | NDTV मराठी#ramgirimaharaj #FIR #ndtvmarathi pic.twitter.com/xvvORu141T
— NDTV Marathi (@NDTVMarathi) August 16, 2024
سابق رکن پارلیمنٹ اور مجلس کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نے سٹی پولیس کمشنر کو لکھا کہ رام گری مہاراج کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رام گری مہاراج نے ناسک کی ایک تحصیل کے ایک موضع میں متنازعہ بیان دیا۔ یہ بیان مسلم فرقہ کی امیج کو خراب کرنے دانستہ طور پر دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی بیان بازی کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں میں درار ڈالنا ہوتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کے لئے دانستہ طور پر یہ حرکت کی گئی۔ بعدازاں چھترپتی سمبھاجی نگر میں میڈیا سے بات چیت میں امتیاز جلیل نے کہا کہ رام گری مہاراج نے جو بیان دیا ہے، اس کی اسکرپٹ کسی اور نے لکھی ہے۔
रामगिरी महाराज यांनी केलेल्या वक्तव्याच्या निषेधार्थ नगर शहरातील चौकात मुस्लिम बांधवांनी मूक मोर्चा काढत रस्ता रोको केला #Muslim pic.twitter.com/qNPp7XUh6P
— Lokmat (@lokmat) August 16, 2024
وہ کسی اور کے حکم پر کام کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے اہم عبادت کے دن (جمعہ) کو سَکل ہندوسماج کو مظاہرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، یہ سیاسی سازش ہے۔
نبی پاک کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت: مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان
ممبئی:16 اگست : بنگلہ دیش کے حالات کی بنیاد پر گنگا گری سنستھان گوداوری دھام مٹھ کے مہنت رام گری مہاراج نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبیٔ پاک کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس گستاخانہ بیان سے ریاست بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
ریاست کے سابق وزیر اور مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے رام گری مہاراج کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نبیٔ پاک کی شان میں گستاخی کرنے والے رام گری مہاراج کو فوری طور پر گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ نسیم خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ناسک ضلع کے سننر میں رام گری مہاراج کے ساتھ ایک پروگرام میں شریک ہوکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ فرقہ پرستی کی حمایت کرتے ہیں۔ رام گری مہاراج کے پروگرام میں وزیر اعلیٰ کی شرکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے اور اس کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ ریاست میں موجودہ سیاسی ماحول مہایوتی حکومت کے خلاف ہے، اور وزیر اعلیٰ کو اس بات کا خوف ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں عوام ان کی حکومت کو اکھاڑ پھینکے گی۔ واضح رہے کہ مہنت رام گری مہاراج نے ناسک ضلع کے پنچالے گاؤں میں اپنے مذہبی خطاب کے دوران نبیٔ پاک کی شان میں گستاخی کی تھی، جس کے نتیجے میں ناسک کے علاوہ چھترپتی سمبھا جی نگر (اورنگ آباد) کے ویجا پور شہر میں بھی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ رام گری مہاراج کے خلاف سمبھا جی نگر اور احمد نگر میں احتجاج ہوا، اور ناسک و یویلہ میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔یو