پونے ضلع میں کمسن بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل لا ٔ اینڈ آرڈر کی سنگین ناکامی
اس معاملے کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر داخلہ استعفیٰ دیں: ہرش وردھن سپکال
ممبئی: پونے ضلع میں ایک کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اسے ریاستی حکومت اور خاص طور پر محکمہ داخلہ کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے اور ریاست کو ایک کل وقتی اور مؤثر وزیر داخلہ فراہم کیا جانا چاہیے۔
ممبئی کے تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاست میں لا ٔ اینڈ آرڈر کی حالت پہلے ہی انتہائی خراب ہو چکی ہے اور اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ خواتین اور کمسن لڑکیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پونے میں پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا ہے بلکہ مہاراشٹر کی پیشانی پر ایک بدنما داغ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں پر پولیس کا کوئی خوف باقی نہیں رہا اور اس کی بنیادی وجہ محکمہ داخلہ کی ناکامی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں کل وقتی وزیر داخلہ نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ عناصر بے لگام ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے سنگین جرائم مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت میں ذرا بھی حساسیت باقی ہے تو وزیر داخلہ کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے تاکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر قیادت کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ محکمہ داخلہ میں بدعنوانی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک کرپشن پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیڑ ضلع میں سنتوش دیشمکھ معاملہ، سوارگیٹ ایس ٹی اسٹینڈ پر پیش آنے والا ریپ کیس، ایک مرکزی وزیر کے گھر میں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، بدلاپور میں اسکولی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اشوک کھرات معاملہ، خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے بڑھتے واقعات یہ سب ریاست میں لا ٔ اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی واضح مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کھلے عام جاری ہے اور نوجوان نسل کو نشے کی لت میں دھکیلا جا رہا ہے، لیکن وزیر داخلہ کی حیثیت سے حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی، صرف اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سلامتی، لا ٔ اینڈ آرڈر اور انتظامیہ کی ناکامی کے لیے براہ راست وزیر داخلہ ذمہ دار ہیں۔
سپکال نے مرکز کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ملک بھر میں مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن ذات پر مبنی مردم شماری ابھی تک نہیں کی جا رہی، حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وعدے تو کرتی ہے مگر انہیں پورا نہیں کرتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں اور عمل میں تضاد ہے اور جمہوریت و آئین کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے 100 اسمارٹ سٹیز، ہر سال دو کروڑ روزگار، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور روپے کی گراوٹ کو روکنے جیسے وعدے کیے تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کے لیے آدھار کارڈ طلب کیا جا رہا ہے اور اسے دیگر نظاموں سے جوڑا جا رہا ہے، لیکن اسے ووٹر لسٹ سے نہیں جوڑا جا رہا، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر ترجمان اتل لونڈھے بھی موجود تھے۔
خواتین ریزرویشن کے لیے راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کا نمایاں کردار، یہ کوئی احسان نہیں بلکہ خواتین کا حق ہے: ہرش وردھن سپکال
ملک کی 50 فیصد آبادی کو کمزور نہ سمجھا جائے، ڈی لِمٹیشن کی آڑ میں خواتین ریزرویشن روکنے کی کوشش: سپریا سرینیت
لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں میں سے ہی 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے: بھارتی شرما
’خواتین ریزرویشن کے پردے میں بی جے پی حکومت کی ناکام چال‘ کے موضوع پر تلک بھون میں عوامی اجلاس
ممبئی: خواتین کے لیے ریزرویشن کو احسان کے بجائے بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ اس تصور کی بنیاد سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے 1985 میں رکھی تھی، جسے بعد میں سونیا گاندھی نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی فکر میں خواتین کو برابری کا مقام حاصل نہیں، جبکہ ہندوستان کا آئین خواتین کو مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔
تلک بھون میں ‘فرینڈس آف ڈیموکریسی’ کی جانب سے خواتین ریزرویشن کے موضوع پر منعقدہ ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ راجیو گاندھی نے پنچایتی راج نظام متعارف کراتے ہوئے 73ویں اور 74ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مقامی خود اختیاری اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کیا، جسے بعد میں بڑھا کر 50 فیصد تک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی سیاسی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے یہ ایک تاریخی قدم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونیا گاندھی نے بھی خواتین ریزرویشن کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، لیکن جب اس قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سوچ خواتین کو محدود کردار تک رکھنے کی ہے، جبکہ آئین نے خواتین کو ووٹ دینے اور برابری کے حقوق فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں صنفی مساوات کی واضح بنیاد موجود ہے، مگر بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات اس سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اس موقع پر کانگریس کی قومی ترجمان سپریا سرینیت نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے خواتین ریزرویشن کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس کے ساتھ حلقہ بندی (ڈی لِمٹیشن) کا مسئلہ جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر خواتین ریزرویشن بل منظور کیا تھا، لیکن حکومت نے اس میں ایسی شرائط شامل کر دیں جن کی وجہ سے اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا۔
سپریا سرینیت نے کہا کہ اپریل 2026 میں خواتین ریزرویشن کے نام پر خصوصی اجلاس بلایا گیا، لیکن درحقیقت ڈی لِمٹیشن کا بل پیش کیا گیا، جو ملک کی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دے رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود خواتین کے حقوق کو مؤخر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ملک کی 50 فیصد آبادی کو کمزور یا ناسمجھ نہیں سمجھنا چاہیے۔
اجلاس میں خواتین تحریک سے وابستہ سینئر کارکن بھارتی شرما نے کہا کہ راجیو گاندھی کے فیصلے کے نتیجے میں آج ملک بھر میں تقریباً 14.5 لاکھ خواتین مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جو کانگریس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کو کئی مرتبہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، لیکن اسے مکمل منظوری نہیں مل سکی۔ سونیا گاندھی کی قیادت میں یہ بل راجیہ سبھا سے منظور ہوا، مگر لوک سبھا میں اکثریت نہ ہونے کے باعث منظور نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود اس بل کو فوری طور پر نافذ نہیں کیا گیا، بلکہ 2023 میں اسے منظور کر کے اس پر عملدرآمد کو ڈی لِمٹیشن سے مشروط کر دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے ہی 33 فیصد خواتین کو ریزرویشن دیا جائے، نہ کہ نئی حلقہ بندی کے نام پر اس عمل کو مؤخر کیا جائے۔
اس موقع پر کانگریس کے ترجمان رسالے ’شدوری‘ کے خصوصی شمارے کی رسم اجرا بھی عمل میں آئی۔ اسی دن یومِ مہاراشٹر اور یومِ مزدور کے موقع پر شام کے وقت تلک بھون میں ایک شعری نشست کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں کشور کدم، چھایا کدم، نیرجا، اکشے شمپی، شاہیر دتارام مہاترے، منگیش ساتپوتے اور یووراج موہیتے سمیت متعدد فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔