نئی دہلی،26دسمبر(یو این آئی)گزشتہ دنوں دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اعلان کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں ملک کے جو حالات ہیں اس میں جومعصوم اور بے گناہ پولیس کی گولی سے مارے گئے ہیں دہلی وقف بورڈ ان کے خاندان کو اقتصادی مدد کے طور پرپانچ پانچ لاکھ روپئے دے گا۔ یہ اطلاع وقف بورڈ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی۔
ریلیز کے مطابق آج بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان نے اپنے وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں پہل کرتے ہوئے میرٹھ سے آئے وفد سے ملاقات کی اور میرٹھ میں مظاہرہ کے دوران پولیس تشدد اور بے گناہ و معصومین پر بر بریت کی آنکھوں دیکھی داستان سنی۔وفد نے مرنے والوں کی تفصیل اور پولیس کے ظلم سے امانت اللہ خان کو واقف کرایااور ان کی جرائت اور مقتولین کو اقتصادی مدد دینے کا اعلان کرنے کے ان کے قدم کی ستائش کی۔
چیئرمین دہلی وقف بورڈ نے کہا کہ مظلوموں کی دادرسی کرنا اور کمزوروں کی مدد کے لئے آگے آنا وقت کی ضرورت ہے اور دہلی وقف بورڈ کے مقاصد میں شامل ہے۔امانت اللہ خان نے مقتولین کے خاندان کی بورڈ کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ کی اقتصادی مدد کے لئے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل اور دیگر ضروری کاغذات مہیا کرانے کے لئے کہا جس کے بعد بورڈ کی جانب سے مقتولین کے لواحقین کو اقتصادی مدد کا چیک جاری کیا جائے گا۔ میرٹھ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ میں پولیس کی گولی سے مرنے والوں کی رودادبتاتے ہوئے میرٹھ سے آئے ہوئے وفد کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
سماجی کارکنان پر مشتمل تقریبا 20لوگوں کے وفد نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو بتایا کہ مظاہرہ کے دوران پولیس نے سیدھے گولی چلائی اور جو لوگ گولی سے مارے گئے ہیں ان کے سینے،گردن یا پھر سر میں گولی لگی۔وفد کے مطابق پولیس کی گولی سے 5نوجوانوں کی موقع پرہی موت ہوگئی جبکہ ایک کو زخمی حالت میں دہلی اسپتال میں بھرتی کرایا گیا جہاں اس نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔میرٹھ سے سماجی کارکنان پر مشتمل وفد نے میرٹھ میں مظاہرین اور معصوموں پر پولیس تشدد اور ظلم کی جو داستان سنائی ہے وہ روح فرسا ہے۔وفد کا کہنا ہے کہ پولیس نے اوپر سے ملے آرڈر کے مطابق بلا اشتعال لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین پر سیدھے گولی چلائی جس سے 6نوجوان مارے گئے اوردرجنوں زخمی حالت میں ہیں۔وفد کے مطابق ڈر اور خوف کی وجہ سے زخمیوں کی صحیح تفصیل سامنے نہیں آرہی ہے اور لوگ اپنا علاج بھی چھپ چھپاکر کرارہے ہیں کیونکہ پولیس اسپتالوں میں بھی چھاپے مار رہی ہے اور جو زخمی ہیں ان کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔وفدنے بتایا کہ کئی درجن لوگوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اور بہت سارے لوگوں پر مقدمات قائم کئے جارہے ہیں جس سے لوگوں میں مزید دہشت پیدا ہوگئی ہے۔وفد کے مطابق پولیس کی گولی سے میرٹھ میں جن نوجوانوں کی موت ہوئی ہے ان کے نام اس طرح ہیں (1)آصف ولد عید الحسن،عمر 20سال(2)محسن ولد احسان عمر 30سال(3)ظہیر ولد منشی عمر 45سال(4)آصف ولد سعید عمر 35سال(5)علیم ولد حبیب عمر 23سال (6)سالم ولد سلیم۔وفد کے مطابق یہ سب لوگ میرٹھ کے بھومیا کے پل اور اسلام آباد ہاپوڑ روڈ کے رہنے والے ہیں۔وفد نے بتایا کہ انھیں اخبارات کے ذریعہ علم ہوا کہ دہلی وقف بورڈکے چیئرمین امانت اللہ خان نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران پولیس کی گولی سے مارے گئے لوگوں کے خاندان کی اقتصادی مددکرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ غریب ہیں اور اقتصادی اعتبار سے بہت کمزور ہیں اور اپنے گھر کی دیکھ بھال اور کفالت کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر والوں کو مدد کی سخت ضرورت تھی۔ وفد نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی ہمت کو سلام اور مظلوموں کی مدد کے لئے ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہاللہ اس کے لئے انھیں بہتر اجر سے نوازے گا۔
امانت اللہ خان سے ملاقات کرنے والے وفد میں ایڈوکیٹ محمد اسلام،عبد القادر ملک،محمد جاوید،خورشید ملک،عارف ملک و دیگر شامل تھے۔جعفرابادسے عام آدمی پارٹی کے کونسلر عبدالرحمن کی معرفت اس وفد نے چیئرمین امانت اللہ خان سے ملاقات کی اور جلد سے جلد مقتولین کی دیگر ضروری تفصیل مہیاکرانے کی بات کہی۔