پولس نے گجرات کی طرز پردہلی میں بھی فسادیوں کوچھوٹ دی تھی

ناندیڑ کے شاہین باغ میں جے این یو طالب علم ششی بھوشن صمد پانڈے کاخطاب

ناندیڑ: 28فروری(ورق تازہ نیوز)شہریت ترمیمی قانون ،این آر سی اور این پی آر کےخلاف پورے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ناندیڑ میں بھی کل جماعتی تحریک کی جانب سے بے مدت احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔اس احتجاجی دھرنے میں آج جے این یو کے طالب علم و معروف شاعر ششی بھوشن صمد پانڈے اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی نائب صدر ایڈوکیٹ دھرم راج ونجاری کو مدعو کیا گیا تھا ۔
ششی بھوشن نے احتجاجی دھرنے سے خطاب بھی کیا اور کئی انقلابی نظمیں اور غزلیں سنائی ۔اپنی تقریر میں انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کو غیر منصفانہ بتاتے ہوئے اس کےخلاف چلائی جارہی تحریک سے لوگوں کو جڑنے کی اپیل کی ۔اسی طرح دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کےلئے پولیس کے رول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام امن امان کی بحالی کو یقینی بنانا ہے ۔لیکن دہلی پولیس نے بجائے امن امان کی بحالی کا فریضہ ادا کرنے کے الٹا دھنگائیوں کو کھلی چھوٹ دیدی ۔
جس طرح گجرات میں پولیس کی موجودگی میں لوگوں کا قتل عام ہوا ،جائدادیں جلائی گئی اسی طرح دہلی میں بھی حالات بنانے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جولوگ دستور کو بچانے کی لڑائی لڑرہے ہیں اور احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں ان پر یکطرفہ کارروائی نہیںکرنا چائے اگر آپ کی کارروائی سے احتجاج بند ہوتاہے تو آپ کی بچے ہونگے تو وہ کہے گے جب دستور کو ختم کیاجارہاتھا تو آپ کیا کررہے تھے ۔ طلبہ کے ساتھ ہورہے ظلم کے مسئلہ پر کہا کہ مودی حکومت طلبہ کو تعلیمی سہولتوں سے محروم کرنا چاہتی ہے ۔اس لئے یونیورسٹیو ں کی فیس بڑھائی جارہی ہے ۔

ایڈوکیٹ دھرم راج ونجاری نے بھی اپنے تاثرات ظاہر کئے جس میں انہوں نے شہریت ترمیمی قانون کو نہ صرف مسلمانوں کےخلاف بلکہ چالیس فیصد ہندوو¿ں کے خلاف بتایا۔ احتجاجی دھرنے میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے ۔مظاہرین نے دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور فساد پھیلانے والے ملزمین کےخلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading