پنجاب مہاراشٹر کواپریٹیو بینک کے بدعنوانی کے 35 دن گذرنے کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکلا

پنجاب مہاراشٹر کواپریٹیو بینک کے بدعنوانی کے 35 دن گذرنے کے بعد بھی کوئی حل نہیں نکلا

مہاراشٹر پنجاب بینک کی بدعنوانی کی وجہ سے لو گ بہت پریشان ہیں، 35 دن گذرنے کے بعد بھی انکا مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے، اس بینک سے جڑے رہنے والوں کی دیوالی اس بار کالی ہی رہی۔ دیوالی اتے ہی دو دن اپنے گھر بیٹھے رہے دیوالی کے بعد اب پھر بینک کے باہر جمع ہو گئے۔

دیوالی کے بعد گھر سے نکلے لوگ نے ہاتھ میں پلے کارڈس لے کر احتجاج کرتے نظر آئے اور وہ انصاف کے مطالبے کا نعرہ لگا رہے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ایم سی بینک کھل جائے بس ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ کچھ لوگوں نے تو پولیس پر الزام لگایا کہ انہیں پولیس کے افراد فون کرکے دھمکی دیتے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس ہر واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن کے پاس لسٹ مانگ رہی ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ جیسا معاملہ کر رہے ہیں، معاملہ تو صاف ہے ہم اپنے پیسوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لوگوں نے یہاں تک کہا کہ پولیس انہیں طرح طرح کے سوالات سے پریشان کرتی ہے، اپ لوگ احتجاج کےلیے کیوں جا رہے ہو، اپ کا نام اور ایڈریس کیا ہے؟

لوگوں کا ایک گروپ ار بی ای کے پاس ملا مگر وہاں بھی ناکامی ملی۔

لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے، گورنمنٹ بولتی ہے کہ ار بی ای کے پاس جاو، ار بی ای کا کہنا ہے کہ ہم نظام کے پابند ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

پی ایم سی بینک کے کھاتے والے چاہتے ہیں کہ انکے پیسے واپس مل جائے مگر معاملہ اس قدر الجھ گیا ہے کہ کسی پاس صحیح جواب ہی نہیں ہے۔

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading