پشپا کوہلی: پاکستان کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولس

اسلام آباد: ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی پشپا کوہلی سندھ پولس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر بن گئیں۔وہ پاکستان پہلی ایسی ہندو خاتون افسر ہیں، جو اس عہدہ کیلئے منتخب ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز پبلک سروس کمیشن کے آنے والے نتائج میں پشپا کوہلی کامیاب امیدواروں میں شامل تھیں، اِس امتحان میں کامیابی کے بعد وہ سندھ پولس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر بھرتی ہوگئی ہیں۔


روزنامہ ’جنگ‘ کے مطابق پشپا کوہلی کا تعلق ہندو مذہب کی کولھی برادری سے ہے۔ صوبہ سندھ کے علاقے سماری کی رہائشی پشپا کوہلی نے کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے کریٹیکل کئیر آئی سی سی میں گریجویشن کیا ہے اور 2016 میں پبلک سروس کمیشن افسر کے امتحان کا فارم جمع کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے امتحان دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ’ ’میں ایک بہادر اور ایماندار پولس افسر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانا چاہتی ہوں۔‘‘ پشپا کوہلی نے مزید کہا کہ ’’اس دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی ذات، رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں جانا جاتا بلکہ وہ اپنے کردار اور اپنے کام سے جانا جاتا ہے۔‘‘انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں چاہتی ہوں کہ میری برادری کی دیگر لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کریں اور پاکستا ن کا نام روشن کریں۔‘‘

پشپا کوہلی کی اس کامیابی پر پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر عاصم جوفہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہندو برادری کی خاتون اے ایس آئی بنی ہیں۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading