پرینکا چوپڑا کو ایرانی خواتین کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا

نام تو ان کا بھی بہت ہے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بالی وڈ سے لے کر ہالی وڈ تک خوب نام کمایا ہے اور وہ ہیں بالی وڈ کی سپرسٹار پرینکا چوپڑا۔

پرینکا نے ایران میں جاری خواتین کی احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان خواتین کو کچلا نہیں جا سکتا اور ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔‘

پرینکا چوپڑا جونز نے سوشل میڈیا پر ایرانی خواتین کی حمایت میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ’ایران اور دنیا بھر کی خواتین اپنے حق کے لیے کھڑی ہو رہی ہیں اور مہسا امینی کے لیے مختلف انداز میں احتجاج کر رہی ہیں جنھیں ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔

برسوں تک زبردستی دبائی جانے والی آوازیں جب اٹھتی ہیں تو وہ آتش فشاں کی طرح پھٹتی ہیں اور ان آوازوں کو کسی بھی صورت نہیں دبایا جا سکتا، میں آپ کے مقصد اور آپ کی جرات دیکھ کر حیران ہوں، پدرانہ سماج یا سٹیبلشمینٹ کے خلاف آواز اٹھانا اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھا کر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا آسان کام نہیں ہے اور آپ بے خوف ہوکر ہر روز یہ کام کر رہی ہیں۔‘

پرینکا کی اس پوسٹ پر تعریف کم اور تنقید زیادہ ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ پرینکا کی اس پوسٹ کو موقع کا فائدہ اٹھانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور ان کی شکایت ہے کہ جب انڈیا کی خواتین کے ساتھ ریپ، قتل یا زیادتی ہوتی ہے تب وہ کہاں ہوتی ہیں۔‘

پرینکا چوپڑا نے اس سے پہلے سوشل میڈیا پر ‘بلیک لائف میٹرز’ کے حق میں بھی آواز اٹھائی تھی اور جب ان سے انڈیا میں ہونے والے لِنچِنگ کے واقعات پر سوال کیے گئے تھے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading