پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر نہیں بنانا چاہیے، جمعیۃ علماء مہاراشٹر

ممبئی (پریس ریلیز): مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے کی کلیدی ملزمہ اور بھوپال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی وزارت کی اہم کمیٹی کا حصہ بنائے جانے پر مالیگاؤں بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد مہیا کرانے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جمعیۃ کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عوام میں غلط پیغام جائے گا۔

جمعیۃ علماء ہند مہاراشٹر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک اخباری بیان میں کہا گیا کہ دفاع کا شعبہ اہم ہوتا ہے اور اس میں بم دھماکہ میں ملوث ملزمہ کو نہیں لینا چاہیے تھا، نیز اس کمیٹی میں ملزمہ کی شمولیت سے کمیٹی کی اہمیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور عوام میں غلط پیغام جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے ابت ک اس اس مقدمہ میں 135 سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرا چکے ہیں لہذا حکومت ہند کو ملزمہ کو 21 رکنی دفاعی کمیٹی کا حصہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے اس اقدام سے حکومت کی منشاء صاف ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہے جن پر ملک دشمن سرگرمیوں، قتل و غارت گیری، بم دھماکہ انجام دینے کے سنگین الزامات ہیں اور وہ اقلیت دشمن ہیں۔

گلزار اعظمی نے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا کہ دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ کو پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو کمیٹی کا حصہ بنائے جانے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے کیونکہ حال ہی میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو محب وطن کہا تھا اور گاندھی جی کے تعلق سے اس کے نظریات ہندوستانی روایت کے برخلاف ہیں۔

واضح رہے کہ آج حکومت ہند نے اعلان کیا کہ وہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو 21 رکنی دفاعی پارلیمانی مشورتی کمیٹی کا حصہ بنائے گی جس میں سینئر سیاست داں شرد پوار، فاروق عبداللہ و دیگر شامل ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading