نئی دہلی: سپریم کورٹ روہنگيا سمیت تمام غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے والی درخواست پر چار ہفتہ بعد سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس ایس اے بوب ڈے کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اشونی اپادھیائے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملہ پر چار ہفتے بعد سماعت کرے گی۔
SC to take up after 4 weeks for hearing on plea seeking deportation of all illegal immigrants, including Rohingyas from Bangladesh.PIL also seeks Court’s directive to central&state govts to identify, detain&deport all the illegal migrants&infiltrators, incl Bangladeshis&Rohingyas pic.twitter.com/cX4roz3IXX
— ANI (@ANI) November 21, 2019
درخواست گزار اشونی اپادھیائے نے کیس کا خصوصی ذکر کیا اور درخواست پر جلد سماعت کرنے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے فوری سماعت سے صاف انکار کر دیا۔ اپادھیائے نے دلیل دی کہ روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہری ہندوستانیوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں۔ تاہم، جسٹس بوبڈے نے کہا ’’اس مفاد عامہ کی عرضی کو چار ہفتہ بعد سماعت کے لئے درج کیا جائے‘‘۔ بنچ میں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سوريہ كانت بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ نے آسام میں مقیم 7 روہنگیا مسلمانوں کو میانمار بھیجنے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی تھی جس کے بعد انہیں واپس میانمار بھیجنے کا راستہ صاف ہو گیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
