پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی سے اپیل

بنام:۔ بخدمت جناب مظہرعلی خان صاحب
سیکریٹری پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی وہ جمیع اراکین
ملک بھر میںپر بھنی ضلع مسلمانوںکی آبادی کے لحاظ سے کا فی اہمیت رکھتا ہے پربھنی کو تعلیمی اعتبار سے بھی ایک باشعو ر ضلع کہ سکتے ہیں ۔ ضلع میں تعلیمی تحریکیں سنہ ساٹھ کے د ہے سے شروع ہوئی جِسے مرحوم رحمن خان صاحب ،میر ہاشم علی امدداللہ بیگ اشعر ،ستار صاحب انجینئر یسین خانصاحب انکے رفقاءاوران جیسے کئی لوگوں نے شروع کی تھی جسکو جناب رشید انجینئرصاحب نے آگے بڑھایا۔(مختصراََ)

آج ضلع میں کم و بیش ایک100 سے زائد ادارے ،اسکولس اور مدارس قائم ہیں جو یہاں کے مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا کررہے پر بھنی کے سب سے قدیم اداروں میں موئید المسلیمین،اندارگاندھی گرلس اسکول اور ڈاکٹر ذاکر حسین اسکولس شامل ہیں جو انکے بانی حضرات نے ملّی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہو ئے اخلاص ،ایمانداری ،شفافیت کے ساتھ قائم کیاتھا ۔اس میں انکا کوئی ذاتی مفاد پوشیدہ نہیں تھا ۔ یہ بالکلیہ یہ ملّی ادارے تھے اور ہیں ۔انکے پیش نظر نہ اقربا پروری تھی نہ دولت کمانا تھااورنہ کبھی انہوں نے اداروں کو اپنا سیاسی اور سماجی قد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ ان میں انانیت اور نام و نمود کا عنصر بھی نہیں تھا وہ اس کے سخت خلاف تھے۔ اللہ ان سبھی مخلص بے لوث لوگوں کی مغفرت فرمائے آمین ۔ان اداروں کے ممبران کا تعلق کسی ایک خاندان ۔شہر، طبقہ ،یا براداری ، سے نہیں تھا یہ ادارے کسی کی ذاتی ملکیت نہیں تھے ان کی نیت صاف تھی ٍ۔ یہ ساری تمہید اس لیے باندھی ہے کہ پر بھنی ایجوکیشن سوسائٹی جو ضلع پربھنی اور جالنہ کی سب سے بڑی تعلیمی اور سماجی تحریک ہے حال ہی میں اس کے روح رواں جناب رشید انجینئر صاحب اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور انکی ملی خدمات کو قبول فرمائے آمین۔باوجود کئی کمیوںکے انجینئر صاحب ایک بے لوث ،مخلص،ہمدرد ایماندار شخص تھے وہ اپنی حیات بھر پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی کے تنہا کرتا دھرتا رہے۔اب ان کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی ایک بحران کا شکار ہوگئی ہے ۔موجودہ ممبران کے درمیان آپسی اختلافات کی خبریںمل رہی ہے جو بڑی تشویشناک ہے ۔پربھنی کا با شعو ر طبقہ کش مکش میںہے کہ وہ اس تعلیمی اورسماجی تحریک کے مستقبل کے لیئے کونسارُخ اختیار کرے تاکہ یہ ایک عوامی تحریک بنی رہے۔اور اسکوموجودہ بحران سے کس طرح نکالا جائے۔

دراصل اتنی بڑی سوسائٹی میں اس وقت غالبََا ۱۱ یا ۲۱ ممبران حیات ہے ۔جس میںسے ۷یا ۸ممبران کی عمر ۵۷سے ۰۸بر س کے درمیان ہے ۔اور باقی ماندہ ممبران بھی ۰۶ سال کی عمر کو تجاوز کرچکے ہیں ۔ایسے میں اس ملی تحریک کی بقا ءکے لیے پربھنی کی ذی شعور عوام کو فکر ہونالازمی ہے ۔اس سوسائٹی کا مستقبل کیا ہوگا۔موجودہ ممبران کون سے فیصلے لیں گیں؟کیا یہ سوسائٹی ملّت کی رہے گی یا اس پرموجودہ ممبران کی خاندانی حکمرانی قائم ہو جائیگی ۔یہ وہ سوالات ہیں جو سب کو پریشان کررہے ہیں ؟ اطلاع ہے کہ سوسائٹی کے موجودہ ممبران میں عہدوں کی رسّہ کشی چل رہی ہے دو گروپ آپس میں اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ بات عدالت تک پہنچ گئی ہے ۔گیارہ ممبران میں ایک آدھ ممبر کی ا کثریت سے موجودہ گروپ کو اقدار ملا ہواہے اگر اس میں سے کو ئی ایک ممبر لالچ میں آکر پالابدل دیتا ہے تو اقتدار دوسرے گروپ کے پاس چلاجاتاہے گا کوئی بھی گروپ عوام سے رابطہ قائم کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے ۔خدشہ ہے کہ یہ سوسائٹی نااہل ، لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی ۔ عوام مےں چرچا ہے کہ جھگڑے کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے آنے والے دنوں میںاس ادارے میں اساتذہ اور دیگر عہدوں کے لیے کئی جائیدادیں نکلنے والی ہیں جس ٍکے لیئے موجودہ ممبران ان جائیدادوں پر اپنی اولاد،رشتہ دار اور قریبی دوستوں کے بچوں کاتقرر کرنے کے لیئے پلاننگ کرچکے ہیں۔وہ ان تقررات کے لئیے یہ لوگ موٹی رقم وصول کرنا چاہتے ہیں اور آپس میں مل بانٹ کر ہضم کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ لوگ جو رشید انجینئر صاحب کے خاندان کے کسی بھی شخص کو ٍ سو سائیٹی کا ممبر بنانا نہیں چاہتے تھے ۔ یہاں تک کے انجینئر صاحب کے خاندان کے لوگوں کا عمل دخل بھی ان لوگوں کو پسند نہیں تھا۔

آج اپنی اولادوں کو اسکا ممبر بناکر اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔پر بھنی ایجوکیشن سوسائیٹی اپنے بنیاد کے ۰۵ سال پورے کرچکی ہے مگر اس کی ترقی اپنے ہم عمر مسلم اور غیر مسلم اداروں کے مقابلے شایان شا نہیںہے۔آج کل تو یہ بہت برے دور سے گذرہی ہے ۔ان کے کئی اسکول طلباءکی گرتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بہت پریشان ہیں ۔آج ڈاکٹر ذاکرحسین اسکولس مسلمانوں کی پہلی پسند نہیں ہے یہاں کی عمارتیں خستہ ہے فرنیچر ،انفراسٹر کچر،اور جدید آلات کا فقدان ہے اسکول میں نظم وضبط کی کمی دکھائی دیتی ہے ۔کئی اسکول کی نہ تو اپنی ذاتی زمین ہے اورنہ اپنی عمارت۔۰۵ سالوں میں اس انحطاط کے لیے کون ذمہ دارہے؟ ۔ایسے نازک وقت میںاس کے ممبران کا اقتدار کے لیے الجھنا بڑے تشو یش کا باعث ہے ۔آج کل لوگ چھوٹی سوسائیٹی بنا کر اس میںاپنے خاندان یا گروپ کے لوگوں کو اس کا ممبر بناتے ہیں ممبروں کی تعداد بہت کم رکھتے ہیں۔لوگ ایسا اس لیئے کرتے ہیں تاکہ رشوت لینا،اقربا پروری کرنااپنے رشتہ داروں کا تقرر کرنا ملازمین پر ظلم کرنا۔ سوسائیٹی کو فروخت کرنا ۔(حال میں ہی میںاورنگ آباد سے ایک بڑی سوسائیٹی کے فروخت ہونے کی افواہ گشت کررہی ہے ویسے پربھنی میںکئی سوساٹیوں کی خرید فروخت ہوچکی ہے) آسان ہوجائے۔یہ لوگ مکار اور چا لاک ہوتے ہیں کم ممبران کی وجہ سے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔ یہ لوگ تا حیات اقتدار پرجمے رہتے ہیں اور اپنے مرنے سے پہلے اپنی اولاد وں کواس کا وارث بنادیتے ہیں یہ ایک بہت بڑافراڈہے ۔جو حکو مت ااور عوام کی مدد سے لوگ کرتے ہیں۔یہ مّلت کے لیے نہیں بلکہ اپنے فائدے کے لیئے ایسا کرتے ہیں اس میں کی شرفاءاور دینی شخصیات بھی ملوث ہیں جبکہ پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی کا قیام اس سے مختلف تھا۔

پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی ضلع کے ترقی کی ماڈل تحریک بن سکتی ہے :آج مسلمان بڑی آزمائش سے گذررہاہے ۔ اسکوتعلیم کے ساتھ ساتھ ،غربت ،صنعت ،تجارت،تحفظ، انصاف،روزگاراور فرقہ پرستی جیسے مسائل کا سامنا ہے کسی تحریک کو چلانے کے لیئے ،افراد،انفراسٹرکچیر اور مالیہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اللہ کے فضل وکرم سے یہ تمام چیزیں پربھنی ایجوکیشن سوسائٹی کے پاس موجود ہے اگر مل جل کر ان وسائل کا استعمال کیا گیا تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ آنے والے وقت میں موجود ہ سرکار اور انکی تنظیمیں کیسی مصیبتیں کھڑی کریں گی ۔اسکا کوئی اندازہ نہیں ہے ایسے وقت میں مسلمانوںکے لیئے چھوٹے بڑے ادارےNGO اور تنظیموں کی سخت ضرورت ہے ۔ آ ج نئی تنظیم یا سوسائیٹی بنانا اور چلانا بہت مشکل ہوچکا ہے ایسے میں یہ بنی بنائی سوسائیٹی جو موجودہ ممبران کے پاس ملت کی ۔ امانت ہے ۔اس میںاگر نئی روح پھونکی جائے توعوام کازبردست فائدہ ہوسکتا ہے۔اس وقت دور اندیشی ،ہمت اوروصیع القلبی کی ضرورت ہے اگر موجودہ ممبران تنگ نظری کو چھوڑ عوام کی بھلائی کے لیئے آگے آئیں ۔اورسوسائیٹی کو فعال بنائیں تو یہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہوگا۔ اوراللہ اسکا اجر دیگا۔سبھی اچھے لوگ ان کا ساتھ دینے کے لیئے تیار ہیں ۔ پربھنی ایجو کیشن سوسائیٹی کے موجودہ ممبران سے دردمندانہ اپیل :اس وقت پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی آپ لوگوں کی بہترین ذہانت ،دور اندیشی اور،مناسب منصوبہ بندی کی منتظر ہے یہ ایک ملی سوسائیٹی ہے اسی وجہ سے آپ حضرات اس کے ممبر ہیںاس وقت کے ذمہ داروں نے آپ کو اپنی ملّت کا ہمدرد مخلص اور ایماندار شخص سمجھ کر سوسائیٹی کا ممبر بنایاتھا۔ اگر یہ سوسائیٹی کسی فردیا خاندان کی ملکیت ہوتی تو آپ کھبی بھی اس کے ممبر نہیں ہوتے آپکو ہمیشہ اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اس سوسائیٹی کی یہ روایت رہی ہے کہ سابقہ ممبران نے اپنے خاندان سے لوگوں کو ممبر نہیں بناکر سماج میں سے ممبران کو منتخب کیا ہے۔ہمیں امیدہے کہ آپ بھی اس روایت کا احترام کریں گے سب جانتے ہیں کہ ملازمت دینے میں آپ لوگوں نے زبردست اقربا پروری کی ہے .یہاںکوئی بھی ممبرایسا نہیں ہے جسکا کوئی رشتہ دار یہاں ملازم نہیں ہے مگر پھربھی سوسائیٹی آج تک بھی قرباپروری سے محفوظ ہے اور آگے بھی ایسا ہونا چاہیئے کیوں کہ یہ سوسائیٹی عوام کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہے۔عوام آ پ سے بہترین کارکردگی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔آپ کے اختلافات کی وجہ کیاہے َ یہ عوام کے سامنے آنا چاہیئے اتنی کم تعداد میںہوکر بھی آپ میں اختلافات کیوں موجود ہیں۔

آپ کو ایک دوسرے پر اعتماد کیوں نہیںہے۔ آپ لوگ عوام سے کیوں رجوع نہیںہورہے ہیں۔ عوام مےں ےہ چرچا چل رہا ہے کہ موجودہ ممبران نے اپنے بچوں کو ممبر بناکر سوساےٹی انکے حوالے کرنے کا منصوبہ بنا لےا ہے پربھنی اور جالنہ کے 10 لاکھ مسلمانوں مےں انکو صرف اپنے بچوں مےں ہی صلاحےت نظر آرہی ہے عوام چاہتی ہے کہ وہ عوام سے ممبر سازی کی مہم شرو ع کرےں اور عوام کی امانت عوام کو واپس کرےں۔ کیونکہ موجود ہ ممبران نہ تو اس سوسائیٹی کے بانی ہے اور نہ انہوں نے اس کو خریدا ہے وہ صرف اس کے خادم ہیں۔
پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی کے موجودہ بحران کو ختم کرنے کے لیئے کچھ تجاوز و مشور ے
۱) آئند ہ انتخابات تک موجودہ ممبران اپنے عہدوں پر برقرار رہیں ۔ ۲)موجودہ کمیٹی کے ممبران اپنے تمام منصوبے اور لائحہ عمل ( Vision Card )عوام کے سامنے پیش کریں۔ ۳)سوسائیٹی میں ممبر سازی کی مہم جلد از جلد شروع کی جائے ۔ ۴)روایت کے مطابق اپنے خاندان کے لوگوں کو ممبر نہ بنائیں۔( جیسا آپ نے رشید انجینئر صاحب کو کرنے نہیں دیا) .۵)سوسائیٹی میںکم از کم500ممبر ان شامل کیئے جائیں۔ ۶)سوسائیٹی کے موجودہ دستور میں ترمیم کرکے ممبروں کی قابلیت ،عمر اور معیارطئے کیئے جائیں ۔ ۷)سوسائیٹی میں ہونے والے تقررات کے لیئے مہاراشٹر کے بڑے اردو اور مراٹھی اخبارات میں اشتہار دیاجائے ۔اور TET پاس افراد کا تقرر کیا جائے۔ ۸)ان ملازمین کی لسٹ جاری کی جائے جوموجودہ اور سابقہ ممبران کے رشتہ دار ہیں۔جس سے اقربا پروری کی صحیح تصویر سامنے آسکے۔ ۹)پربھنی اور جالنہ کے ہر تعلقہ سے ممبران کوشامل کیاجائے۔ ۰۱)نئے ممبران میں سبھی مکتب فکر و میدانِ عمل ،دینی اور عصری شخصیات نوجوان اورخواتین کوشامل کیاجائے ۔ ۱۱)ممبرشب فیس ۰۰۰۱سے ۰۰۰۲ رکھی جائے ۔(سالانہ) ۔ ۲۱)ہر ۴یا ۵سال میں مستقل انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ ۳۱)کسی ممبر کے استعفی ،انتقال یااخراج کی صورت میں ۰۰۱ دن کے اندراس جگہ کو پر کیا جائے ۔ سابقہ میں ایسا نہیں ہوا اس لیئے آج صرف ۱۱سے ۲۱ممبران موجود ہے ورنہ اسکی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی ۔ ۴۱)ہر دوسال میں اشتہار دیکر نئے ۵ سے ۰۱ فی صد ممبران کو شامل کیا جائے ۔ ۵۱)سوسائیٹی کے لیئے ایک جامعہ Appointment ،پروموشن اور ٹرانسفر پالیسی بنائی جائے۔
پربھنی کے عوام سے اپیل :پربھنی کے بالشعور ،حساس عوام سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی کے معاملات میں دلچسپی لیں۔یہ عوامی تحریک تھی ہے اور رہنا چاہئے ہمارے بزرگوں نے اس کو ہماری فلاح و بہبود کے لیئے قائم کیا تھا ۔اس میں انہوں نے اپناقیمتی خلوص وقت، دولت اورصلاحیت سب کچھ لگایا ہے ۔آج کے دور میں کسی ملّی تحریک کو کھڑاکرنا بہت مشکل کام ہے ۔لوگ بڑی مکّاری اور چالاکی سے ملّت کی بنی بنائی سوسائیٹی پر قبضہ کرلیتے ہیں پربھنی میں بھی کچھ لوگوں نے ملّت کے نام سے سوسائیٹیاں بنا کر اس پر قبضہ کرلیاہے ۔اور بعد میںسوسائیٹی کے عہدوں اور نوکریوںمیں زبر دست اقربا پروری کی ہے اللہ ایسے لوگوں کو بے حد دردناک عذاب دیگا انشاءاللہ ۔پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی کے معاملات میں اگر آج دلچسپی نہیں لی گئی تو بہت جلداس پر بھی کوئی شاطر انسان، گروپ یا خاندان قبضہ کرلے گا ۔جو پربھنی کے عوام کا بہت بڑانقصان ہوگا ۔اس لیے آپ حضرات سے گذارش ہے کہ موجودہ ممبران کو اس بات کا احساس دلایا جائے کے یہ تحریک اُن کے پاس مّلت کی امانت ہے ۔اسکو انہوںنے قائم نہیں کیا ہے اس لیئے وہ اس میں اپنی من مرضی نہیں چلاسکتے ۔اللہ عوام کے اقدام کا منتظر ہے ۔وہ آپ کے حق میں فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیئے ہمیں راستے پر آنا پڑے تو بھی چاہیئے۔ہوسکتاہے ممبران کا قانونی پہلو مضبوط ہو مگر انکا اخلاقی اور اصولی پہلوبہت کمزور ہے۔اگر ہم نہیں لڑیںگے تو حشر میں جواب دینا پڑے گا ۔ہر ایک مخلص مسلمان سے شرکت کی گذارش خاص کرکے سابقہ طلباءسے ۔
مطالبہ:۔پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی بچاﺅ ایکشن کمیٹی کا پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی سے مطالبہ ہیکہ آئندہ دو ہفتہ میں پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی کے مستقبل کے لیے بات چیت شروع کرے ورنہ پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی بچاﺅ ایکشن کمیٹی اخلاقی حدود میں رہے کر عوام میں بیداری مہم چلانگی ۔ انشاءاللہ
اپیل کنند گان :۱)شیخ معروف۔942279711۔۲) ذکی الدین خطیب:9860985282۔۳) عبدالرحمن انصاری 9423324848۔ ۴)ڈاکٹرظفراقبال ۔98233627۔ ۵)محمدعیسیٰ9890091334۔ ۵)ڈاکٹرسید کے عارف الدین۔976666342۔۶) مظہراحمدخاں،92712427
پربھنی ایجوکیشن سوسائیٹی بچاﺅ ایکشن کمیٹی‘پربھنی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading