امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیل کی حفاظت میں اپنے جدید میزائل شکن دفاعی نظام ’تھاڈ‘ کے مجموعی ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ استعمال کر لیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے کیا ہے۔ اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے 200 سے زیادہ ’ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس‘ (تھاڈ) انٹرسیپٹر داغے، جو اس کے مجموعی ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات بحری جہازوں سے 100 سے زائد ’اسٹینڈرڈ میزائل-3‘ اور ’اسٹینڈرڈ میزائل-6‘ انٹرسیپٹر بھی داغے گئے۔
’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اپنے کم و بیش 100 ’ایرو‘ انٹرسیپٹر اور تقریباً 90 ’ڈیوڈس سلنگ‘ انٹرسیپٹر استعمال کیے، جن میں سے بعض کو یمن اور لبنان میں ایران نواز گروپوں کی جانب سے داغے گئے نسبتاً کم جدید میزائلوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’امریکہ نے مجموعی طور پر تقریباً 120 سے زائد انٹرسیپٹر داغے۔‘‘ ایک دیگر عہدیدار نے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل آئندہ دنوں میں ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرتے ہیں تو امریکی فوج کو مزید انٹرسیپٹر استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیلی فوج نے حال ہی میں اپنی بعض میزائل دفاعی بیٹریوں کو دیکھ بھال کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر حملے دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو یہ عدم توازن مزید بڑھ سکتا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے فوجی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے 28 فروری کو حملے کیے تھے، جس کے بعد جنگ شروع ہوئی۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنماؤں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی مغربی ایشیا میں امریکہ کے اتحادیوں پر حملے کیے۔ دونوں فریقین کے درمیان 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی نافذ ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ اور ایران 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط دشمنی کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
بہرحال، امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان استعمال کیے گئے فوجی وسائل کے توازن کا دفاع کیا۔ پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ سے کہا کہ ’’آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران اسرائیل اور امریکہ دونوں نے دفاع کی ذمہ داری یکساں طور پر اٹھائی۔ اس مہم میں دونوں ممالک نے جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ طیارہ شکن نظاموں اور دیگر جدید فضائی و میزائل دفاعی صلاحیتوں کو بھرپور مؤثریت کے ساتھ استعمال کیا۔‘‘ اسرائیلی حکومت نے بھی اس مؤقف کا دفاع کیا۔ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’آپریشن ’رورنگ لاین‘ اور ’ایپک فیوری‘ میں دونوں ممالک اور ان کے اتحادیوں کے مفادات کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اور قریبی تعاون کے ساتھ رابطہ کاری کی گئی۔‘‘