پاکستان کی ’دہشتگردوں‘ کے ٹھکانوں پر کارروائی، ’ہلاک ہونے والے سات افراد ایرانی شہریت نہیں رکھتے

اسلام آباد: پاکستانی سلامتی دستوں نے ایران میں “دہشت گردوں کے ٹھکانوں” کو درستگی سے نشانہ بنایا ہے۔ دفاعی اہلکار کے حوالے سے جمعرات کی صبح خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے یہ رپورٹ دی ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے مزید کہا، “ہم نے مصدقہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ ہماری نظر میں تمام دہشت گرد نسل، ذات، مذہب یا فرقے سے قطع نظر ہمارا ہدف ہیں۔”

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایران میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملوں کا مقصد اپنا دفاع کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس سے پہلے بھی کئی بار ایران سے سرحدی علاقوں سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کارروائیوں کے بارے میں معلومات شیئر کی ہیں۔ لیکن اس کا کوئی مؤثر حل نہیں نکل سکا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اپنی حدود کے اندر کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا اور اس کے لیے جو بہتر طریقہ کار ہے وہ اپنائے گا۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایران برادر ملک ہے اور پاکستان اس کی بہت عزت کرتا ہے اور اس بات پر اب بھی قائم ہے کہ دو طرفہ تعلقات بہتر کرنے کے لیے دونوں ممالک کو ڈائیلاگ کو ترجیح دینی ہو گی۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading