اسلام آباد:26فروری ۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انڈین طیارے تین مقامات پر پاکستانی ریڈار میں نظر آئے جبکہ ایک مقام مظفر آباد سیکٹر سے انھوں نے سرحد عبور کی اور فضا میں موجود پاکستانی فضائی ٹیم نے انھیں بروقت چیلنج کیا۔اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ’بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت دشمنی میں بھی جھوٹ اور بے وقوفی کا سہارا لیتا ہے۔‘وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم جواب کا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے تین مقامات پر دخل اندازی کی کوشش کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ انڈیا کے دعوے ہیں کہ اس کے طیارے 21 منٹ تک پاکستان میں رہے اور 350 دہشت گردوں کو مارا گیا۔انھوں نے انڈیا کے میڈیا پر دی گئی خبروں اور دعوو¿ں کا حوالہ دیا جو کچھ یوں ہے ’پہلا حملہ بالاکوٹ تین بجکر 45سے تین بجکر 53 تک کی گئی۔۔۔۔ دوسرا حملہ مظفر آباد 3 بجکر 48 سے تین بجکر 55 منٹ تک ہوا۔۔۔۔۔۔ تیسرا حملہ چکوٹھی میں تین بجکر 58 منٹ سے چار بج کر چار منٹ تک۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آئیں 21 منٹ تک رہ کر دکھائیں پاکستان کی فضائی حدود میں۔ ان کا کہنا تھاکہ پوری کی پوری ائیر فورس ہر وقت فضا میں نہیں رہ سکتی۔فوج کے ترجمان کے مطابق جب کشیدگی بڑھتی ہے تو دونوں طرف سے افواج اپنی ائیر پٹرولنگ کرتی ہیں اور پاکستان کی جانب سے بھی ایسا کیا جا رہا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ہمارا ائیر پٹرولنگ مشن فضا میں تھا۔ سب سے پہلے یہ سیالکوٹ لاہور کے علاقے میں ریڈار پر نظر آئے۔ ہماری ایک کیپ ٹیم فضا سے ہی وہاں پہنچی اور انھیں چیلنج کیا۔ انھوں نے سرحد پار نہیں کی۔ وہ سات آٹھ نوٹیکل مائلز پر اپنے علاقے میں رہے۔‘فوج کے ترجمان کے مطابق لاہور سیالکوٹ سیکٹر میں اس صورتحال میں ہماری دوسری کیپ ٹیم فضا میں آ گئی۔ لیکن پھر ایک ٹیم اوکاڑہ، بہاولپور کے سیکٹر میں ہمارے ریڈاروں پر نظر آئی۔’دوسری پٹرول ٹیم جنوب میں گئی اور اسے چیلنج کیا۔ تیسری ائیر پٹرول ٹیم بھی موجود تھی تب ہمارے ریڈارز نے دیکھا کہ ایک زیادہ ہیوی ٹیم مظفر آباد سیکٹر میں کرن ویلی کی طرف سے آرہی ہے۔ جب ہماری تیسری کیپ ٹیم نے اس علاقے میں جا کر انھیں چیلنج کیا تو انھوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا۔‘