پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے مالیگاؤں میں وضو کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کی تنصیب

مالیگاؤں (راست / نامہ نگار) پانی کی قلّت کا مسٔلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ مالیگاؤں میں زمین کے نیچے قدرتی طور سے پانی پورے مہاراشٹر میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔شاید وہ دن دور نہیں جب مالیگاؤں میں بھی منماڑ جیسی صورتِ حال پیدا ہوجائے جہاں مہینہ دیڑھ مہینہ کے روٹیشن سے کارپوریشن پانی آتا ہے۔حالانکہ مالیگاؤں کارپوریشن کسی طرح ،آس پاس کے ڈیموں اور تالابوں سے اپنی عوام کے لئے ایک دو دن کے ناغہ سے پانی کا بندوبست کئے ہوئے ہے ۔

بارش کے دنوں میں جو پانی زمین پر گرتا ہے اُس کا کچھ حصّہ زمین کی اندرونی تہوں میں جذب ہو کر سال بھر ہماری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے زیرِ زمین ذخیرہ ہوجاتا ہے۔ بعد کے دنوں میں جتنا جمع نہیں ہوا اُس سے زیادہ ہم بورنگوں کے ذریعہ نکال لیتے ہیں اور زمین کی اندرونی تہوں میں جمع ہوا پانی کا ذخیرہ ختم ہوتاجا تا ہے ،ہماری بورنگیں سوکھ جاتی ہیں دن بہ دن کم ہوتے ہوئے اِس پانی کے ذخیرے کی بھر پا ئی کے لئے کچھ انتظام نہیں کیا جا رہا ہے۔ اور آج پوزیشن یہ ہے کہ پورے مہاراشٹر میں مالیگاؤں کا زیرِ زمین آبی ذخیرہ سب سے کم ہو گیا ہے۔

ایسے حالات میں مالیگاؤں سے تعلّق رکھنے والے چندافراد نے اپنی سماجی تنظیم پَیسْ ٹرسٹ،پونہ کے ذریعہ ایک کامیاب حل کو سوچا اور سب سے پہلے مالیگاؤں کے بڑے قبرستان کی امین عشرت مسجد سے ۲،جون ۲۰۱۹ سے اِس پروجیکٹ کی شروعات کی۔پوری دنیا جانتی ہے کہ وضو ، مسلمانوں کی کتنی اہم ضرورت ہےجِس کےلئے بہت سارا پانی، پانچوں وقت مسلمانوں کو لگتا ہے اِس سماجی تنظیم نے وضو کے لئے استعمال ہونے والے پانی کو جو نالیوں میں بہہ جاتا تھا ایک مخصوص ترکیب کے ذریعہ فلٹر کرکے پورا کا پورا پانی زمین کے اندر پہنچانے کا بندوبست کیا۔جیسے لوگ چھَتوں کے بارش کےپانی کو زیرِ زمین پہنچاتے ہیں اُسی طرح پانچوں وقت وضو کا استعمال شُدہ پانی فلٹر ہوکر دوبارہ زمین کے نیچے پہنچ رہا ہے۔اور دھیرے دھیرے بورنگوں سے نکلا پانی دوبارہ واپس زمینی ذخیرہ میں پہنچ جائے گا۔مانو پورے شہر میں پانچ وقت ہلکی ہلکی بارش سال کے بارہ مہینہ ہوتی رہےگی اور زمین کی گہرائی میں موجود قُدرتی ذخیرہ دوبارہ بھرتا رہے گا۔

بڑے قبرستان کے اِس تجربے کی خبر جب دیگر مساجد کے ذمہ داروں تک پہنچی تو اُنھوں نے بھی اپنی اپنی مساجد میں اِس پروجیکٹ کو شروع کرنے کے لئے اِس سماجی تنظیم کے ممبران سے رابطہ قائم کیا اور جلد ہی دیگر مسجدوں میں بھی اِس پروجیکٹ کو شروع کیا جائے گا۔پیس ٹرسٹ،پونہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ افرادی قوّت کی کمی کی وجہ سے تمام مساجد میں ایک ساتھ یہ کام شروع کرنا مشکل ہے۔

اِس انوکھے حل سے نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پوری دُنیا فیض حاصل کرے گی،کیونکہ مسجدیں سب جگہ ہیں،چھوٹے چھوٹے دیہات سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک اِس ترکیب کو استعمال کر کے زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کی بھرپائی کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ پوری آبادی بلا تفریقِ مذہب و ملّت ،سارے پیڑ پودے اور چرند پرند سب ہی مستفیض ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading