جلگاؤں ٢٣ ِاپریل (سعیدپٹیل کےذریعے) ٢٣ ِاپریل کو ہوۓ پارلیمانی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں مہاراشٹر میں جن نشستوں پر ووٹینگ کی گئ اس میں جلگاؤں (٣)اور راویر (٤) ان حلقوں کےلۓ بھی ووٹینگ کا مرحلہ عمل میں آیا۔ جلگاؤں پارلیمانی نشست پر ١٤ امیدواروں کےلۓ جبکہ راویر پارلیمانی نشست کےلۓ ١٢ ِامیدواروں کےلۓ راۓدھندگان نے اپنے حق راۓدہی کا استمعال کیا۔جلگاؤں شہر سمیت شہری علاقوں میں صبح سے ووٹروں کی قطاریں دیکھی گئیں۔ جلگاؤں پارلیمانی نشست میں آنےوالے چھ اسمبلی حلقوں میں راۓ دھندگان نے اپنی راۓ دہی کا استمعال کیا۔
اسی طرح راویر پارلیمانی نشست کےلۓ بھی چھ اسمبلی حلقوں سے پرامن ووٹینگ کی خبریں موصول ہوئیں ہے۔۔قبل ازیں آج صبح ووٹینگ کے مرحلے ایک طرف ووٹروں کی قطاریں دیکھی گئیں جبک شروع کے ایک دو گھنٹے تک ووٹرس اپنے نام ووٹر فہرست میں تلاش کرتے ہوۓ دیکھے گۓ۔ بعد میں کئ پولینگ بوتھوں پر راۓدھندگان کی لمبی لمبی قطاریں بھی دیکھیں گئ۔دوپہر تین بجے تک دونوں حلقوں میں ٤٥ ِفیصد ووٹینگ ہوئ تھی بعد میں ووٹینگ میں تیزی آئ اور مجموعی طور پر ٦٠ ِ فیصد تک ہونے کا انداز ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق پہونچنے کا امکان ہے۔ووٹینگ کرنے والی اہم شخصیات میں آبی وسائل کے وزیر گریش مہاجن ،سابق وزیر ایکناتھ راو کھڈسے ،سابق وزیر گلاب راو دیوکر ،سابق وزیر سریش دادا جین ،ایم ایل اے کشور پاٹل ،ایم ایل اے راجو ماما بھولے ،میئر سیماتائ بھولے ،خصوصی سرکاری وکیل ایڈوکیٹ اجول نکم ،ضلع کلیکٹر اویناش ڈھاکنے ،ایم ایل اے انمیش پاٹل ،ایم ایل اے ہری بھاو جاولے ،ریاستی سندھی ساہیتہ اکادمی کے صدر گرمکھ جگوانی وغیرہ حضرات نے راۓ دہی کا حق ادا کیا۔جلگاؤں لوک سبھا نشست کےلۓ مجموعی طور پر ٥٢٠٤ فیصد ووٹینگ ہوئ ہیں۔
جس میں جلگاؤں شہر ٤٢٥٨ %جلگاؤں دہی ٥٤١٩ % ،املنیر ٤٩٦٣ % ،ایرنڈول ٥٦٠٠% ،چالیس گاوں ٥٣٠٠ % ،پاچورہ ٥٨٦٠ % فیصد ووٹینگ شامل ہیں۔اسی طرح راویر لوک سبھا کےلۓ مجموعی طور پر ٥٥٨٦ %فیصد راے دہی درج کی گئیں ہیں۔جس میں چوپڑہ ٥٦٧٤ % ،راویر ٦٢٠٠ % ،بھساول ٤٨٨٠ % ،جامنیر ٥٤١٦ % ،مکتائ نگر ٥٣٠٠ % ،اور ملکاپور ٦١٠٠ % فیصد ووٹینگ ہونے کی ذرائع سے ملی اطلاعات ہیں۔اسی دوران دونوں پارلیمانی نشستوں کے پولینگ مراکز میں سے اقلیتی طبقہ کے پولینگ بوتھوں پر مرد ۔خواتین ووٹرس کی لمبی ۔لمبی قطاریں دیکھی گئیں ہیں۔مسلم اکثریت والے وارڈو میں ووٹرس میں جوش و خروش کے مناظر کے ساتھ راےدہندگان نے اپنی راے دہی کا حق ادا کیا۔
صبح کے ١١ ِ بجے تک ووٹینگ میں تیزی دیکھی گئ جبکہ دوپہر میں تیز دھوپ اور توبہ گرمی سے درمیان کے دو۔تین گھنٹے ووٹروں کی تعداد میں کمی نظر آئ۔جبکہ دوپہر چار بجے کے بعد ووٹینگ مراکز پر دوبارہ ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آئیں ۔اسی دوران پورے ضلع سے کہیں کوئ ناخوش گوار واقع کی کوئ خبر تادم تحریر موصول نہیں ہوئیں۔کل ملاکر ووٹینگ کا یہ تیسرا مرحلہ جلگاؤں ۔راویر پارلیمانی نشستوں کے انتخابی مراحل کےلۓ پرامن گذر گیا۔