امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ مچا ہوا ہے اور اس بیان کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزارت خارجہ نے دیر رات بیان دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کشمیر معاملہ پر کبھی ثالثی کر نے کے لئے نہیں کہا کیونکہ ہندوستان کا ہمیشہ سے موقف ہے کہ یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے اس میں تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں ہے ۔
We have seen @POTUS's remarks to the press that he is ready to mediate, if requested by India & Pakistan, on Kashmir issue. No such request has been made by PM @narendramodi to US President. It has been India's consistent position…1/2
— Raveesh Kumar (@MEAIndia) July 22, 2019
واضح رہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کل پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے اپنی ملاقات کے دوران کہا تھا کہ وہ کشمیر معاملہ میں ثالثی کے لئے تیار ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سے اس معاملہ میں ثالثی کرنے کے لئے کہا تھا ۔اس بیان کے بعد کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے ٹویٹ کر کے سوال کیا تھا کہ یا تو ڈونالڈ ٹرمپ جھوٹے ہیں یا پھر کشمیر کے تعلق سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے ۔ اس کے بعد وزارت خارجہ نے بیان دیا کہ ہندوستان کو تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں ہے ، وزیر اعظم نے کبھی کوئی ثالثی کی بات نہیں کی اور کشمیر معاملہ ہندوستان اور پاکستان کا آپسی مسئلہ ہے۔
US President Donald Trump says PM Narendra Modi has also asked him to help with "disputed Kashmir" region, he would "love to be a mediator": Reuters pic.twitter.com/PcE7dnq4rr
— ANI (@ANI) July 22, 2019
وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نےٹویٹ کیا ’’ہم نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کو دیکھا ہے کہ وہ کشمیر مدے پر ہندوستان اور پاکستان کے ذریعہ درخواست کئے جانے پر ثالثی کے لئے تیار ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ امریکی صدر سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی اور یہ ہندوستان کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ سبھی مدوں پر دونوں ممالک کی آپس میں ہی بات ہو گی ۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلانیہ ہندوستان اور پاکستان کو تمام مدوں کو حل کرنے کے لئے آپ سی بات چیت کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں ‘‘۔
امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ نے عمران خان کے امریکی دورے کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ’’اگر میں مدد کر سکتا ہوں تو میں ثالثی کرنا پسند کروں گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے ان سے دو ہفتہ پہلے جی۔20 کے سربراہی اجلاس میں کشمیر مدے پر ثالثی کرنے کے لئے کہا تھا ۔ٹرمپ نے کہا تھا ’’ میں دو ہفتہ پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تھا اور انہوں نے اس موضوع(کشمیر) کے بارے میں بات کی تھی اور انہوں نے حقیقت میں کہا ’کیا آپ ثالث بننا چاہیں گے؟ میں نے پوچھا ’کہاں‘ (مودی نے کہا ) کشمیر ‘‘۔ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
