شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران آج کل فیض احمد فیض کی معروف انقلابی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کافی مقبول ہو رہی ہے۔ دہلی میں جاری احتجاج کے درمیان مظاہرین اجتماعی طور پر اس نظم کو گا کر حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
دریں اثنا، فیض کی اس نظم کے کچھ اشعار کا استعمال کر کے جامعہ کے ایک پروڈکشن ہاؤس نے ایک خوبصورت ویڈیو تیار کی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ جامعہ کے پروڈکشن ہاؤس نے ویڈیو کے پس منظم میں اس نظم کو استعمال کیا ہے۔ اور اسے پاکستانی گلوکارہ اقبال بانو کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ نے حکومت کو اتنا خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہاں اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستانی گلوکارہ اقبال بانو نے ایک مرتبہ جب اس نظم کو پیش کیا تھا تو ہزاروں کا مجمع دیوانہ ہو گیا تھا۔ اسی درمیان انتظامیہ کی جانب سے اس ہال کی بجلی کاٹ دی گئی جہاں اقبال بانو اس نظم کو پیش کر رہی تھیں۔ لیکن لوگوں نے ان کے ساتھ اتنی بلند آواز میں اس نظم کو گایا کہ وہ واقعہ تاریخ کے اوراق میں درج ہو گیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
