بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع پنا (Panna) میں واقع ایک 30 سال پرانا مدرسہ ہفتہ، 12 اپریل کو منہدم کر دیا گیا۔ یہ پہلا مسلم ملکیتی مذہبی ڈھانچہ ہے جسے حال ہی میں نافذ کیے گئے وقف ترمیمی قانون (Waqf Amendment Act) کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔مدرسہ بی ڈی کالونی میں واقع تھا اور تقریباً تین دہائیوں سے قائم تھا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مدرسہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا، تاہم مدرسے کے مالک نے کہا کہ انہوں نے مقامی گرام پنچایت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ مدرسے کے مالک کو نوٹس جاری کی گئی تھی، لیکن معاملہ قانونی کارروائی کی وجہ سے تاخیر کا شکار رہا۔
A madrasa in Madhya Pradesh’s Panna district was demolished on Saturday, becoming the first Muslim-owned structure to come under scrutiny under the newly implemented Waqf Amendment Act.
The madrasa, located in BD Colony and reportedly standing for nearly 30 years, was alleged by… pic.twitter.com/TnROW8Bjxo
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) April 13, 2025
نئے قانون کے تحت اب یہ علاقہ میونسپل کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں آ گیا ہے، اس لیے اس تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔تاہم، مدرسے کے مالک نے خود ہی سرکاری کارروائی سے بچنے کے لیے بلڈوزر کے ذریعے اس عمارت کو منہدم کر دیا، تاکہ براہ راست سرکاری مداخلت سے بچا جا سکے۔یہ قانون 5 اپریل کو صدر دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد 8 اپریل کو نافذ ہوا۔ پارلیمنٹ میں اس قانون پر شدید بحث ہوئی
، جس کے بعد اسے منظور کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون شفافیت، پسماندہ مسلمانوں اور مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔تاہم، متعدد مسلم تنظیمیں، جن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) اور حزبِ اختلاف کے اراکینِ پارلیمان شامل ہیں، اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون آئین کی خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کے حقوق پر قدغن لگاتا ہے۔
مدرسہ غیر قانونی ہونے کی وجہ منہدم کیا گیا۔ اس میں وقف ایکٹ کہاں سے آگیا۔۔۔۔