وہ قبیلہ جہاں لوگ ’بوڑھے‘ نہیں ہوتے

مارٹینا کینچی نیٹ بولیویا کے جنگل سے گزر رہی تھیں جہاں سرخ رنگ والی تتلیاں اردگرد چکر لگا رہی تھیں۔ ہم نے انھیں کہا وہ کچھ دیر کے لیے رک جائیں کیونکہ ہماری ٹیم آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔مارٹینا کے شناختی کارڈ کے مطابق ان کی عمر 84 برس تھی۔ مگر 10 منٹ کے اندر ہی انھوں نے مقامی یوکا نامی پھل والے تین درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنے چاقو کے دو وار سے نرم تنے والے اس درخت کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا۔انھوں نے اپنی کمر پر بڑی تعداد میں پھل لادا اور جنگل سے اپنے گھر کی طرف چلتی بنیں۔ مارٹینا نے یہاں پر ’کاساوا‘، مکئی، کیلے اور چاول کی کاشت کر رکھی ہے۔مارٹینا اس 16000 نیم خانہ بدوش مقامی کمیونٹی، جسے مقامی زبان میں ’چیمانے‘ پکارا جاتا ہے، کا حصہ ہیں جو ایمازون کے جنگل میں مقیم ہے۔ یہ مقام بولیویا کے دارالحکومت ’لا پاز‘ کے شمالی میں کوئی 600 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس کمیونٹی کے لوگوں کی دل کی شریانیں بہت مضبوط ہیں اور ان کی ذہنی عمر باقی لاطینی امریکہ، یورپ اور دیگر دنیا کے ممالک کے نسبت کم رفتار سے بڑھتی ہے۔بولیویا کے زیریں علاقوں میں ایمازون کے جنگلوں میں دریائے مانیکی کے کنارے یہ چیمانے باشندے آباد ہیں جو شکار کرتے ہیں، مچھلیاں پکڑتے ہیں اور کاشت کاری کرتے ہیں۔ ان کا قریبی آبادی سے کشتی سے مسافت تقریباً 100 کلومیٹر تک بنتی ہے۔ان کی خوراک کا 17 فیصد حصہ شکار سے حاصل ہوتا ہے۔ خنزیر، خرگوش، تازہ پانی کی مچھلیاں کھانے کے علاوہ باقی غذا چاول، مکئی، اور کیلے سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں شراب نوشی اور سگریٹ نوشی نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ لوگ جسمانی طور پر بہت زیادہ سرگرم رہتے ہیں۔ مرد اوسطاً 17 ہزار قدم روزانہ چلتے ہیں جبکہ خواتین کی اوسط 16 ہزار قدم ہے۔ عمر رسیدہ افراد بھی 15 ہزار قدم روزانہ چلتے ہیں۔ دوسری جانب دنیا میں ایک عام فرد کے لیے دس ہزار قدم روزانہ پیدل چلنا بھی مشکل ہے۔سائنسدانوں نے اس قبیلے میں کورونیری آرٹیری یعنی دل کی شریان میں کیلشیئم (سی اے سی) کی سطح کی جانچ کی جس کے سبب شریانوں میں خون کی گردش میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔انھوں نے 705 افراد کے دل کا سی ٹی سکین کیا تو علم ہوا کہ 45 سال کی عمر تک کسی بھی چیمانے قبیلے کے فرد میں اس کی مقدار نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ امریکہ میں 25 فیصد افراد کی شریانوں میں اس عمر تک یہ پیدا ہو جاتا ہے۔75 سال کی عمر تک دو تہائی چیمانے میں سی اے سی نہیں ہوتے جبکہ امریکہ میں 80 فیصد افراد میں یہ پیدا ہو جاتے ہیں۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر مائکل گروین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے لوگوں سے کم ہے جن کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ یہ جاپان کی خواتین سے نزدیک ترین ہے لیکن دونوں دو مختلف چیزیں ہیں۔‘بہرحال چیمانے باشندوں میں انفیکشن کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ پروفیسر گروین اور ڈاکٹر تھامس دونوں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جسمانی ورزش ضروری ہے۔یہ دنیا کی ایک منفرد کمیونٹی ہے۔ یہ دنیا کے شاید وہ آخری باشندے ہیں جن کا طرز زندگی مکمل طور پر شکار اور کھیتی باڑی پر مشتمل ہے۔سائنسدانوں کے لیے یہ قبیلہ تحقیقی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ نیو میکسیکو یونیورسٹی کے ماہر بشریات ہلارڈ کپلان کی سربراہی میں محققین نے دو دہائیوں تک ان کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ شکار کے لیے آٹھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں جبکہ اس کے لیے انھیں 18 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی خوراک میں صرف 14 فیصد چربی ہوتی ہے جبکہ امریکہ میں یہ تناسب 34 فیصد ہے۔ دوسری جانب ان کے کھانے میں فائبر زیادہ ہوتا ہے اور ان کی کیلوریز کا 72 فیصد کاربوہائیڈریٹ سے آتا ہے جبکہ امریکہ میں یہ 52 فیصد ہے۔ یہ لوگ روایتی انداز میں کھانا فرائی بھی نہیں کرتے۔پروفیسر ہلارڈ کپلان اور ان کے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ساتھی مائیکل گوروین کا ابتدائی کام انتھروپولوجی (علم بشریات) سے متعلق تھا۔لیکن انھوں نے دیکھا کہ چیمانے کے معمر افراد میں بڑھاپے کی مخصوص بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کے مسائل کی علامات نہیں پائی جاتی ہیں۔پھر سنہ 2013 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق ان کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ امریکی ماہر امراض قلب رینڈل سی تھامسن کی سربراہی میں ایک ٹیم نے قدیم مصری، ا’ِنکا‘ اور ’انینگن‘ تہذیبوں کی 137 حنوط شدہ لاشوں کا تحقیق کی غرض سے سی ٹی سکین کیا۔ان کی تحقیق کے مطابق جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے، چربی، کولیسٹرول اور دیگر مادے شریانوں کو گاڑھا یا سخت بنا دیتے ہیں، جس سے ’ایتھروسکلروسیس‘ ہوتا ہے۔ انھوں نے 47 حنوط شدہ لاشوں میں ایسی علامات پائیں اور ان مفروضوں کو چیلنج کیا کہ یہ جدید طرز زندگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔دوسرا مرحلہ جو سنہ 2023 میں نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے جریدے ’پروسیڈنگز‘میں شائع ہوا، اس سے یہ بات سامنے آئی کہ عمر رسیدہ افراد میں برطانیہ، جاپان اور امریکہ جیسے صنعتی ممالک میں ایک ہی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں 70 فیصد کم دماغی خرابی ظاہر ہوئی۔تحقیق کاروں کے میڈیکل کوآرڈینیٹر اور بولیویا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈینیئل اید روڈریگز کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پوری بالغ آبادی میں الزائمر کے صفر کیسز پائے ہیں جو کہ قابل ذکر ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading