وقف قانون مسلمانوں کے لیے کتنا خطرناک ؟ مختصراً سمجھیے

:✍️: سمیع اللہ خان
کل پارلیمنٹ میں امیت شاہ، کرن رجیجو سمیت بھاجپا لیڈران کی تقاریر میں یہ بات بہت زیادہ شدت سے کہی گئی کہ اس قانون سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچےگا بلکہ یہ مسلمانوں کے فائدے کا قانون ہے اور اس بات کو اتنی شدت سے کہا گیا کہ کئی مسلمان بھی دھوکے میں آچکے ہیں، مجھے پانچ سے زائد ائمہ مساجد نے امیت شاہ اور کرن رجیجو کے بیانات کے مختلف نکات بھیج کر سوال کیا ہے۔

یہ کنفیوژن دراصل جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہے اور کل پارلیمنٹ میں ایسی باتیں منصوبہ بندی کے ساتھ کہی گئی ہیں تاکہ مسلمانوں کو گمراہ کیا جاسکے ۔
ہم اس پروپیگنڈہ کو بہت ہی مختصر انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
کل جہاں پارلیمنٹ میں امیت شاہ نے چیخ چیخ کر کہا کہ وقف قانون سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا وہیں امیت شاہ نے اس بل کو لانے کا ایک مقصد بیان کیا ہے آپ کی نظر امیت شاہ کے بیان کردہ اُسی مقصد پر ہونی چاہیے، امیت شاہ نے کہا کہ: وقف کے پاس اس وقت ملک بھر میں 39 لاکھ ایکڑ زمین ہے لیکن اس میں سے 21 لاکھ ایکڑ زمین 2013 کےبعد وقف کو ملی ہے، 1913 سے 2013 تک وقف کے ذریعے مسلمانوں کے پاس 18 لاکھ ایکڑ زمین تھی لیکن پھر 2013 میں 39 لاکھ ایکڑ ہوگئی ”

یہ امیت شاہ کا کہنا ہے، یعنی کہ مودی سرکار بہت صاف صاف کہہ رہی ہے کہ وہ نئے وقف قانون کے ذریعے مسلمانوں سے وقف بورڈ کے ذریعے 21 لاکھ ایکڑ زمین خالی کرانے جارہی ہے ۔
*یہ ہے ان کا اصل ہدف جو ہمارے لیے شدید خطرہ ہے، یہ جو 21 لاکھ ایکڑ زمین ہم سے حکومت واپس لینے والی ہے اس میں کتنی مسجدیں، کتنے مدارس، درگاہیں قبرستان اور مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ہوں گے، اور جن اراضی پر یہ دینی مراکز نہ بھی ہوں ان وقف اراضی کو اتنی بڑی تعداد میں خالی کرانے کا مطلب اس ملک کے مسلمانوں کی کمر توڑ دینا ہے ۔

چنانچہ یہ ثابت ہےکہ ہندوتوادی سرکار اس قانون کے ذریعے کھلم کھلا اوقاف کی 21 لاکھ ایکڑ جائیداد پر قبضہ کرنے جارہی ہے۔ یہ ہمارے لیے آئی۔سی۔یو سے زیادہ سنگین معاملہ ہونا چاہیے ۔ باقی جو بیانات سرکاری وزراء نے دیے ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں وہ سب آپ کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں۔
ایک اور زاویے سے سمجھیے :
ہمارے ذہن میں یہ رہنا چاہیے کہ وقف کا یہ معاملہ اہمیت کا حامل اس لیے ہے کہ ہمارے موجودہ دینی ادارے، مساجد مدارس قبرستان یا درگاہیں زیادہ تر اور کئی عصری تعلیمی ادارے اپنے قانونی رجسٹریشن میں وقف کا ٹائٹل رکھتی ہیں ، اگر یہ ٹائٹل متنازع ہوگیا تو ہزاروں مسجدوں مدرسوں اور قبرستان کی زمینوں پر واضح خطرہ ہے !
آپ یا میں کسی بھی مسجد مدرسہ یا قبرستان کو عام طور پر کس کی ملکیت بتاتے ہیں ؟ وقف کی۔

اب جو قانون آیا ہے اس نے اسی پر سوال کھڑا کردیا ہے ۔ اس لیے ابھی اس وقت وقف بورڈوں کی بدعنوانیوں پر نہ جائیں بلکہ ہمارے ہاتھوں سے کیا کچھ نکل سکتا ہے اس پر توجہ مرکوز رکھیں ۔
وقف قانون ہمارے دینی اداروں کی قانونی ملکیت کو کمزور کردےگا کوئی بھی دعویٰ کرکے آپ سے مسجد یا مدرسہ خالی کرواسکتا ہے ۔کوئی بھی قبرستان کی زمین کسی بھی بلڈر کے ہتھے چڑھ سکتی ہے، اگر کوئی بھی ہندو جاکر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وقف کی فلاں فلاں زمین یا مسجد و مدرسہ فلاں مندر یا سرکاری ٹرسٹ کی زمین ہے توپھر متعلقہ زمین کو یا ادارے کو فیصلہ ہونے تک بند کرنا پڑےگا اور فیصلہ کون کرےگا آپ بخوبی جانتے ہیں ۔

اس قانون کے بعد اس ملک میں روزانہ ہندو۔مسلم دنگے اور نفرت کی وارداتیں بڑھ جائیں گی کیونکہ ہر روز مسجدوں، مدرسوں وغیرہ پر دعویٰ کرکے ایک جھگڑا اٹھایا جائے گا ۔
یہ قانون مسلمانوں کے لیے اتنا زیادہ خطرناک ہے کہ وہ ایک جھٹکے میں 21 لاکھ ایکڑ زمین سے محروم ہو جائیں گے ۔
یہ قانون کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا یہ مسلمانوں کی کمر توڑنے والا ہے اور اس کے ذریعے انہیں ہر روز آزمائےگا، 21 لاکھ ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ہر روز ایک نئی مسجد ایک نئے مدرسے ، درگاہ اور قبرستان پر سرکاری دعوی آئےگا، اور اس کے نتیجے میں فسادات اور نفرت کےعلاوہ ہاتھ کیا آئےگا؟
اس لیے سب مسلمان ہر سطح پر قانونی اور جمہوری انداز میں وقف ترمیمی بل کے خلاف لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں، قائدین اور قیادت جلد از جلد اس معاملے پر غیر معینہ مدت ہڑتال اور احتجاج کا منظم منصوبہ بنا کر پیش کریں، کم از کم اب تو تاخیر نہ کریں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading