وقف ایکٹ کی مخالفت میں مستعفی ہونے والے آئی پی ایس محمد نورالہدیٰ: ایک جرات مند مثال

جب قومیں ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے والوں سے خالی ہو جائیں تو ظلم کے ایوان مضبوط ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسے میں اگر کوئی فردِ واحد بھی حق کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو وہ نہ صرف ظلم کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے بلکہ سوئے ہوئے ضمیروں کو بھی جگا دیتا ہے۔ 1995 بیچ کے سینئر آئی پی ایس افسر محمد نورالہدیٰ نے یہی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنی اعلیٰ سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر یہ پیغام دیا ہے کہ نوکری ضمیر سے بڑی نہیں ہوتی۔

محمد نورالہدیٰ بہار کے ضلع سیتامڑھی سے تعلق رکھتے ہیں اور ریلوے میں انسپکٹر جنرل (IG) کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کا یہ استعفیٰ صرف ایک افسر کا استعفیٰ نہیں بلکہ ملک بھر کے مسلم افسران کے لیے ایک عملی سبق ہے، جو عہدوں کی چمک میں اپنے دین، قوم اور ضمیر کو بھول جاتے ہیں۔ وہ افسران جو ظلم اور ناانصافی کو دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں، انہیں محمد نورالہدیٰ کے فیصلے سے سبق لینا چاہیے۔

آج ہماری قوم کو صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نہیں بلکہ ایماندار، باکردار اور باحوصلہ افسران کی ضرورت ہے جو حق و انصاف کی خاطر قربانیاں دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ محمد نورالہدیٰ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار افسر ہیں بلکہ ایک باشعور مسلمان بھی ہیں، جن کے دل میں قوم، ملت اور دین کا درد موجود ہے۔

ایسے وقت میں جب اکثر مسلم افسران سرکاری عہدوں پر پہنچ کر ظالموں کی زبان بولنے لگتے ہیں، ان کے ظلم کو جائز ٹھہراتے ہیں، وہاں محمد نورالہدیٰ کی جرات و حمیت امید کی ایک روشن کرن ہے۔ ان کا یہ قدم نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے اس فیصلے کو سراہیں، ان کے لیے دعائیں کریں اور نوجوانوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دیں۔ اللہ تعالیٰ محمد نورالہدیٰ کے اس اقدام کو قبول فرمائے اور ان کے حوصلے میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

از: آفتاب اظہر صدیقی کشن گنج، بہار

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading