نوراتری کے پیشِ نظر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے گربا اور ڈانڈیا پروگراموں کے لیے نئی ضابطۂ اخلاق جاری کی ہے۔ اس ضابطے کے مطابق گربا اور ڈانڈیا پروگراموں میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، جبکہ ہندو شرکاء کے لیے پیشانی پر تلک لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وشو ہندو پریشد کے مطابق پروگرام میں شرکت کرنے والے افراد کی شناخت کی تصدیق کے لیے آدھار کارڈ بھی چیک کیے جائیں گے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پروگرام میں شریک افراد کی مذہبی شناخت کی تصدیق کرنا ہے۔
وشو ہندو پریشد نے سوال اٹھایا ہے کہ بت پرستی کی مخالفت کرنے والے مسلمان نوراتری کے تہوار میں کیوں شرکت کریں؟ تنظیم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مذہب کی تبدیلی اور گؤکشی کے خلاف اس کے بنیادی مقاصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ نوراتری کے تہوار کی پاکیزگی برقرار رکھنے اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے یہ ضابطۂ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ قواعد صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر مقامات پر منعقد ہونے والے گربا اور ڈانڈیا پروگراموں میں بھی نافذ کیے جاسکتے ہیں۔اگر آپ چاہیں تو میں اسے ٹی وی نیوز کے لیے مزید سنسنی خیز مگر غیر جانب دار اردو خبر کے انداز میں بھی تیار کرسکتا ہوں۔