عمرکھیڑ میں بلاسٹنگ ٹریکٹر میں ویلڈنگ کے دوران دھماکہ، 2 افراد ہلاک، 7 شدید زخمی

عمرکھیڑ-26 ستمبر: (سلمان اشہر خان) شہر کے ڈھانکی روڈ پر واقع کسان ویلڈنگ ورکشاپ کے سامنے آج صبح تقریباً ساڑھے 11 بجے بلاسٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے ٹریکٹر کی ویلڈنگ کے دوران ٹائر کے قریب موجود ائیر سلنڈر میں زوردار دھماکہ ہوگیا۔ حادثے میں دو افراد کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جبکہ سات افراد شدید زخمی ہوئے۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ٹریکٹر کے قریب موجود افراد تقریباً 20 فٹ تک اچھل کر جا گرے، جبکہ آس پاس کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی آواز سن کر شہری بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

متوفین کی شناخت اَونی اشکیشو بیلے (32)، ساکن بالدی اور شازیب خان انیس خان (15)، ساکن عمرکھیڑ کے طور پر ہوئی ہے۔ زخمیوں میں سید عمر سید انیس (17)، واصد خان رشید خان (32)، شیخ جاوید شیخ بابو (19)، سید جوہان سید مبین (14) اور سلمان خان شیروخان (34)، ساکنان عمرکھیڑ، جبکہ ٹریکٹر مالک اپّاراؤ بوکسے (54) اور ان کا بیٹا ویبھاؤ بوکسے، ساکنان بالدی، شامل ہیں۔

ائینی شاہدین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بلاسٹنگ کا کام کرنے والا ٹریکٹر نمبر MH-29-V-2528 ویلڈنگ کے لیے ورکشاپ پر لایا گیا تھا۔ ویلڈنگ کے دوران ٹائر کے قریب موجود سلنڈر اچانک پھٹ گیا۔ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے ناندیڑ منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر زخمیوں کا علاج سب ڈسٹرکٹ اسپتال عمرکھیڑ میں جاری ہے۔

موقع پر موجود میونسپل کونسلر ساجد جاگیردار اور کانگریس کے سونُو خطیب نے زخمیوں کو مال بردار گاڑی کے ذریعے اسپتال پہنچانے میں مدد کی۔ ڈاکٹروں نے دو افراد کو مردہ قرار دیا، جبکہ شدید زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے ناندیڑ روانہ کیا گیا۔

اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ و سب ڈویژنل پولیس افسر گورو کایندے پاٹل، تھانیدار شنکر پانچال، ایس اے پی آئی وینکٹ گنگلواد اور ایس اے پی آئی لکشمی ملکووار میڈم پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ ٹریکٹر میں ڈیٹونیٹر ہونے کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے شہریوں کو جائے وقوعہ سے دور ہٹا دیا تھا۔

واقعے کے بعد متوفین اور زخمیوں کے رشتہ داروں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی۔ اطلاع ملنے پر رکن اسمبلی کشن راؤ وانکھیڑے، نتین بھُٹڈا، سنتوش جین اور سندیپ ٹھاکرے نے اسپتال پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی عیادت کی۔

اس واقعے سے علاقے میں شدید تشویش پھیل گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حادثے کی جگہ کے قریب اسکول اور کالج بھی واقع ہیں۔

بلاسٹنگ کے ڈیٹونیٹرز کی موجودگی کا شبہ

ماہرین کے مطابق مذکورہ ٹریکٹر کے ذریعے کنوؤں اور کانوں میں سوراخ کرکے بلاسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایسے ٹریکٹروں میں بلاسٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹونیٹرز بھی موجود رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صرف ٹائر کے قریب موجود ہوا کا سلنڈر پھٹا ہوتا تو حادثہ اتنا شدید نہ ہوتا، اس لیے ٹریکٹر میں بلاسٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹونیٹرز کی موجودگی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading