وزیراعلیٰ کمل ناتھ کا بھوپال حادثے کی مجسٹریٹ جانچ کا حکم، معاوضہ کا بھی اعلان

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے بھوپال میں آج علی الصبح گنیش مورتی وسرجن کے دوران حادثے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے مجسٹريٹ سے جانچ کرانے کا حکم دیا۔ کمل ناتھ نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

وزیر اعلی کمل ناتھ نے مرنے والوں کے لواحقین کو حکومت کی طرف سے 4-4 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی جانچ میں لاپرواہی سامنے آنے پر کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔


ادھر، مدھیہ پردیش 11 افراد کی موت پر سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔ چوہان نے ٹویٹر پر دکھ ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ کھٹلاپور میں گنیش وسرجن کے دوران کشتی پلٹنے کا حادثہ دل دہلا دینے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں مرنے والے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اورایشور سے ان کی آتما کی شانتی اور ان کے گھروالوں کو دکھ کو برداشت کرنے کی طاقت دینے کی دعا کرتا ہوں۔

مدھیہ پردیش ضلع کے انچارج ڈاکٹر گووند سنگھ نے حادثہ پر افسوس کا ظاہر کیا ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اہل خانہ کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس واقعہ کی مجسٹريل سطح کی جانچ کا حکم دے دیا گیا ہے۔


مدھیہ پردیش پولس کے مطابق کشتی میں تقریباً 20 لوگ سوار تھے۔ 5 لوگوں کو بچا لیا گیا تھا اور 3 لوگ ہنوز لاپتہ ہیں۔ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب کشتی میں لے جائی جا رہی گنیش کی ایک مورتی کے جھک جانے سے کشتی کا توازن بگڑگیااور وہ پلٹ گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو کشتیوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا تھا اور ان پر 23 افراد سوار تھے۔ کشتی پر سوار تمام لوگوں کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان تھی اور کسی نے بھی لائف جیکٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔ جوں ہی ایک کشتی پلٹنے لگی لوگ دوسری کشتی پر کودنے لگے اور وہ بھی پلٹ گئی۔ بھاری بارش کے درمیان این ڈی آر ایف کی ٹیمیں، غوطہ خور اور پولس پارٹی لاپتہ لوگوں کو تلاش کرنے کی مہم چلا نے میں مصروف ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading