نیک صالح بیوی ﷲپاک کی بڑی نعمت ہے

✍🏻تحریر:شیخ طریقت حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم*

(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ)

آنحضرتﷺ کے دور کاواقعہ ہے کہ ایک صحابیؓ جوروزانہ محنت کر کے روزی حاصل کرتے اور اپنے گھر کی کفالت کرتے تھے،ایک دن وہ مزدوری کی تلاش میں گئےلیکن مزدوری نہیں ملی، پریشان ہو کر گھر لوٹے، گھرمیں کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا،چنانچہ میاں بیوی دونوں بھوکے پیٹ سو گئے، دوسرے دن پھروہ معاش کی تلاش میں گئے، اس دن بھی مزدوری نہیں ملی، پریشان ہو کرآئے، اور پھردودن کے بھوکے میاں بیوی اسی طرح سو گئے۔

ان کی بیوی بڑی صبر کرنے والی تھی اس نے کوئی شکایت نہیں کی ،نہ کوئی طعنہ دیا، بلکہ شوہر کی ہمت بندھائی کہ روزی ﷲ کے ہاتھ میں ہے،ﷲ چاہےگا تو ضرور ملے گی،ہوسکتا ہےﷲ تعالیٰ ہمیں آزمارہاہو،تیسرے دن شوہر جب مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلنے لگے تو بیوی نے گھر کے دروازے تک آکررخصت کیا ،جیسا کہ سنت ہے کہ بیوی شوہر کوگھر کے دروازے تک آ کررخصت کرے۔یہ صحابی روانہ ہونے والے تھے کہ بیوی نے آواز دی ،یہ واپس آئے تو اسﷲ کی بندی نےعجیب بات کہی، اس نے کہا کہ ہم دو دن سے فاقے سے ہیں، آپ دو نوں دن گئے، مزدوری تلاش کی لیکنﷲ کی مرضی ،مزدوری نہیں ملی، آج آپ پھر جا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ آج پھر آپ کومزدوری نہ ملے تو مجھے یہ اطمینان تو ہے کہ آپ اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھائیں گے،لیکن ہوسکتاہے کہ میری محبت میں مجبورہو کر کوئی حرام لقمہ گھر لے کرآجائیں، توآپ کوﷲ کی قسم ہے کہ آپ میری محبت میں ہرگز ایسا نہ کریں کہ کوئی حرام لقمہ گھر لے کر آ جائیں۔ہم تیسرے دن بھی بھوکے پیٹ سوجائیں گے،لیکن حرام کا لقمہ نہیں کھائیں گے۔

آپ سونچئے !اس صحابیہ کاکیسا ایمان تھااوران کے کیسے جذبات واحساس تھے !

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ایک بازار کی طرح ہے، اوراس بازا ر کابہترین سامان نیک عورت ہے۔یقینا خوش نصیب ہیں وہ افراد جن کی بیویاں نیک صالح ہوں ،جو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اپنے شوہروں کی مد د کرنے والی ہوں اور گناہ کے کاموں سے ان کوروکنے والی ہوں۔

علامتی تصویر

مذکورہ بالاواقعہ اپنے اندر یہ پیغام رکھتا ہے کہ خواتین اگر چاہیں تووہ اپنے شوہروں کی اصلاح اوران کے کاموں کی درستگی میں کلیدی کرداراداکر سکتی ہیں۔آج ہمارے بہت سارےمسلمان بھائی جو بے روزگار ہوتے ہیں بعض مرتبہ وہ اپنی بیویوں کے طعن وتشنیع سے بچنے کے لیے حرام اور ناجائز کاروبار اختیار کر لیتے ہیں ،اگرہماری مائیں اور بہنیں مشکل حالات میں صبر وقناعت اختیار کریں اورشکوہ وشکایت کرنے کے بجائے اپنے شوہروں کی ہمت بندھائیں اور ان سے صاف صاف یہ کہہ دیں کہ ’’ہم فقروفاقہ تو کر سکتے ہیں لیکن حرام لقمہ اپنے اور اپنےبچوں کے پیٹ میں نہیں اتار سکتے‘‘تو عجب نہیں کہ ان کے شوہر غلط راہ پرچلنے سے رک جائیں.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading