نیپال میں تباہی کے 10 دنوں بعد سُرنگ سے سنائی دی انسانوں کی آواز، ریسکیو ٹیم سُرنگ میں ہوئی داخل

نیپال میں بھوٹے کوشی سیلاب کی تباہی کے 10 دنوں بعد زندگی کی ایک امید جاگی ہے۔ رَسوا کے تریشولی-3اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سُرنگ کے اندر سے انسانی آوازیں سنائی دی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں شامل نیپالی فوج کے حوالہ سے انجینئر شری رام نیوپانے نے بتایا کہ سرنگ کے اندر سے لوگوں کی آوازیں آنے کی اطلاع ملی ہے۔ اس کے بعد نیپالی فوج اور مسلح پولیس فورس کی ٹیمیں سُرنگ میں داخل ہوئیں اور بچاؤ کی کارروائی تیز کر دی۔

شری رام نیوپانے کے مطابق پہلے ایک آواز سنائی دی، اور پھر ایک سے زیادہ لوگوں کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق ہوئی۔ ریسکیو ٹیم نے سرنگ کے اندر موجود لوگوں سے کہا کہ ’’گھبرائیں نہیں، ہم آپ کو بچا رہے ہیں۔‘‘ اس کے جواب میں اندر سے بھی کچھ آواز سنائی دی۔ انہوں نے مطلع کیا کہ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے اور سُرنگ سے آوازیں سنائی دینا ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے
قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو آنے والے خوفناک فلیش فلڈ نے نیپال کے کئی علاقوں میں زبردست تباہی مچائی تھی۔ سیلاب کے بعد 12 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے وابستہ 900 سے زیادہ ملازمین لاپتہ ہو گئے۔ ان میں سے سینکڑوں ملامزین کے سُرنگوں اور زمین کے نیچے بنے حصوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ رَسوا اور نواکوٹ میں سیلاب سے متاثرہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں لاپتہ تقریباً 500 ملازمین کے سُرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا جا چکا ہے۔ سیلاب شروع ہونے کے وقت کچھ ملازمین نے مدد کے لیے آواز لگائی تھی۔ سُرنگوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ملازمین نے بھی بتایا تھا کہ ان کے کئی ساتھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

ریسکیو آپریشن طویل ہونے کے درمیان ماہرین کو سُرنگوں کے اندر آکسیجن کی سطح کم ہونے کی تشویش ہے۔ اس سے اندر پھنسے لوگوں کے زندہ بچنے کے امکانات مسلسل چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس دوران سرنگ کے اندر سے ایک سے زیادہ لوگوں کی آواز سنائی دینا ریسکیو ٹیم اور ان کے اہل خانہ کے لیے بڑی امید لے کر آیا ہے۔ نیپالی فوج اور مسلح پولیس فورس کی ٹیمیں اب ان لوگوں تک پہنچنے اور انہیں محفوظ باہر نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading