ایران پر امریکی حملوں میں 3 فوجی پائلٹ سمیت کئی اہلکار ہلاک، تہران کی کارروائی کی دھمکی

ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ دو رات قبل ایران پر کیے گئے امریکی حملوں میں 3 ایرانی فوجی پائلٹ ہلاک ہوئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی فارسی کے مطابق، پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی تسنیم نیوز ایجنسی نے پائلٹوں کی ہلاکت کے مقام اور اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹوں میں بحریہ کے مجتبیٰ باقری اور حامد اوکاتی جبکہ فضائیہ کے حسین مہدیان شامل ہیں۔ ایجنسی نے ایک الگ رپورٹ میں ایرانی مسلح افواج کے مزید چھ اہلکاروں کے نام بھی جاری کیے اور بتایا کہ وہ ملک کے جنوبی علاقوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں مارے گئے۔

امریکہ نے طویل وقفے کے بعد 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹکام، نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے جنوبی ایران کے متعدد شہروں میں حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، سیریک کے کوہستک کے علاوہ خوزستان صوبے کے اہواز اور آغاجاری علاقوں میں بھی امریکی حملے ہوئے۔ ایران کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی کرمان شاہ صوبے میں پاسداران کے ایرو اسپیس فورس کے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ لوان جزیرے پر امریکی حملے کے بعد بسیج فورس کے تین اہلکاروں کے مارے جانے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے اشارے دیے گئے ہیں۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکی حملوں کو ’جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کا ردعمل ’’غیر متوازن‘‘ ہوگا۔ محمد رضا عارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کے نئے جرائم نے ملک کے سلامتی سے متعلق جائزوں اور دفاعی نظریے کو تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول، اب ایران کا ردعمل ’’غیر متوازن اور کثیر سطحی‘‘ ہوگا اور حملہ آور کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی رضامندی کے بغیر آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ ایرانی حکام کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد تہران نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی اور علاقائی سطح پر بھی سخت ردعمل دینے کا عندیہ دے رہا ہے۔

تاہم، تسنیم کی جانب سے ہلاک ہونے والے فوجی پائلٹوں اور دیگر اہلکاروں کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں اور ان کی ہلاکت کے حالات کی آزادانہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading