’’کیا ہم مسلمان ہیں؟‘‘ فرحان اختر کے سوال پر جاوید اختر کا دوٹوک جواب، مذہب کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال

ممبئی:مشہور شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر ایک مرتبہ پھر مذہب کے حوالے سے اپنے خیالات کے باعث خبروں میں ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے بچوں فرحان اختر اور زویا اختر کی پرورش اور مذہبی شناخت کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔

جاوید اختر نے بتایا کہ جب فرحان اختر تقریباً 7 یا 8 سال کے تھے تو ایک دن وہ اسکول سے گھر واپس آئے اور فوراً اپنے والد سے ایک سوال کیا: ’’کیا ہم مسلمان ہیں؟‘‘

جاوید اختر کے مطابق انہوں نے اپنے بچوں کو بچپن میں کسی مخصوص مذہب سے وابستہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے بڑے ہوتے ہوئے خود مذہب اور معاشرے کے بارے میں سمجھ پیدا کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے ان پر کسی مذہبی شناخت کو مسلط نہیں کیا۔

جاوید اختر نے فرحان کو جواب دیتے ہوئے سمجھایا کہ انسان جس شہر یا کمیونٹی میں پیدا ہوتا ہے، یہ اتنا اہم نہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ انسان کیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرحان اور زویا کو انہوں نے ’’areligious‘‘ یعنی کسی مخصوص مذہب سے وابستہ شناخت کے بغیر پروان چڑھایا۔ جاوید اختر خود بھی مذہب کے بارے میں اپنے غیر روایتی خیالات کے لیے معروف ہیں۔

ہنی ایرانی کو دیا بچوں کی تربیت کا کریڈٹ

جاوید اختر نے اپنے بچوں کی شخصیت سازی کا بڑا کریڈٹ اپنی پہلی اہلیہ ہنی ایرانی کو دیا۔ ان کے مطابق ہنی ایرانی نے فرحان اور زویا کو آزادی، ذمہ داری، اخلاق اور اچھے برے کی تمیز سکھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

جاوید اختر نے اپنے دونوں بچوں کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شناخت اور کامیابی بڑی حد تک اپنی محنت سے حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق فرحان اور زویا نے شہرت اور دولت کے لیے اپنے معیار اور وقار سے سمجھوتہ نہیں کیا۔

یہ پرانا واقعہ ایک حالیہ انٹرویو میں دوبارہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور بالی ووڈ حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔

حوالہ: [این ڈی ٹی وی کی مکمل رپورٹ](https://www.ndtv.com/entertainment/are-we-muslims-javed-akhtar-recalls-8-year-old-farhan-akhtars-query-about-identity-12000331?utm_source=chatgpt.com) | [انڈین ایکسپریس کی رپورٹ](https://indianexpress.com/article/entertainment/bollywood/javed-akhtar-recalls-8-year-old-farhan-akhtar-asking-about-their-religion-10861841/?utm_source=chatgpt.com) 

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading