آکولہ :(ایم۔ایم۔سلیم۔)ملک کا موجودہ نظام تعلیم بہت سارے مسائل سے دوچار ہے جس میں تعلیم کی رسائی، معیار اور باقاعدگی کا مسئلہ اور انسانی ہمدردی سے عاری و اخلاقی برائی سر فہرست ہے جب کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ مفت و معیاری تعلیم سب کے لیے ہو، اس کی آسان رسائی ہو لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اس لیے ملک کی تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے.
حکومت کی جانب سے جون کے مہینے میں قومی تعلیمی پالیسی کا ڈرافٹ شائع کیاگیا اور اس کے لیے عوام سے سفارشات طلب کی گئی اس ضمن میں ایس آئی او نے ملک گیر سطح پر نیشنل ایجوکیشن پالیسی پر گفتگو کی اور مندرجہ ذیل سفارشات حکومت کو دیا،

(1)قومی تعلیمی پالیسی میں قدیم ویدک تعلیمی نظام کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ محدود طبقہ کو بڑھاوا دینے کا کام کرتی ہے جب کہ اگر ہندوستانی نظام معلومات کو پیش کیا جاتا تو ممکن تھا کہ ملک کی تعمیر میں ہر ذات، طبقات، مذاہب، ہر ریجن اور زبان و تہذیب کی شراکت سامنے آتی جو کہ ملک کے لیے کبھی نہ بھلایا جانے والا حصہ تھا.
(2)رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کا مکمل نفاذ کیا جانا چاہیے،
(3)ڈرافٹ میں ہندی اور سنسکرت زبان پر خاص توجہ دی گئی ہے جب کہ یہ غیر ہندی والے علاقوں کے لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے کیونکہ دستور نے ہر شہری کو اس کی اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق دیا ہے جو کہ دو زبانوں والے فارمولے میں پوری طرح سے نظر انداز ہوسکتا ہے، اس لئے ہندی سنسکرت اور ریجنل زبان کے علاوہ مادری زبان کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے،
(4)اس ڈرافٹ میں حکومتی باڈی کو تشکیل دینے کی بات کہی گئی ہے جن میں خصوصاً RSA, NTA, NRF وغیرہ ہیں یہ تمام بوڈیز کسی ایک منسٹری کو سونپی جائے گی جو کہ ملک کی وفاقی ساخت (Federal Structure) کے برخلاف ہے یہ تمام بوڈیز کا سیاسی استعمال بہت آسان ہوسکتا ہے، اس سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں،
اس ڈرافٹ کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی تعلیمی پالیسی ملک میں تعلیم کی بازار کاری کے دروازے کھول رہی ہے جس کی وجہ سے کرپشن، مہنگائی اور ڈونیشن جیسی بیماریاں بڑھے گی، اس لئے ضروری ہے کہ تعلیمی میدان میں باقاعدگی پیدا ہو تاکہ پبلیکیشن اور فیس پر قابو پانا آسان رہے،
(5)اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مدرسے سے فارغ طلباء کے لیے بھی کورسز شروع کیے جائیں، عربی اور اردو کے کورس میں انہیں آسانی سے داخلہ فراہم کیا جائے،
(6)جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے مسلم طلباء کو دس فی صد ریزرویشن دیا جانا چاہیے اور اقلیتوں کو ملنے والی اسکالرشپ میں اضافہ کیا جانا چاہیے اسے آسان بنایا جائے اور دستاویزات کی کم سے کم مانگ رکھی جائے۔
(7) نیٹ امتحان کو لازمی رکھنے والی شرطیں ہٹائی جائے تاکہ اقلیتی طلباء بھی میدان تعلیم میں اوپر آسکے،
(8)ڈرافٹ میں اخلاقی تعلیم اور اسکول کی حساسیت پر خاص زور دیا گیا ہے لیکن تاریخ اور نصاب میں ہورہی غیر ضروری ملاوٹ و جھوٹ اور اس کے ذریعے پھیلائی جارہی نفرت کو روکنے کا کوئی نظام نہیں ہے اس لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام نصابی کتابوں پر کنٹرول کیا جائے.
(9)اقلیتوں پر ہورہے ظلم و ستم کے خلاف پارلیمنٹ میں قانون بنایا جانا چاہئے.
اس موقع پر پریس کانفرنس میں لبید شافی صاحب(صدرِ تنظیم)٫ طارق ذکی صاحب (صدر حلقہ، مہاراشٹر), ندیم پوار صاحب (سیکرٹری حلقہ)، توصیف جعفر خان صاحب (پبلک ریلیشن سیکرٹری)،
شعیب انعامدار صاحب(آکولہ ضلع صدر) ذمہ داران موجود تھے۔