چلو!
نئی روشنی کے ہمراہ
عزم لیں
اپنے وطن کی
ستم زدہ دھرتی کو
اب اور زخم نہ دیں گے
چلو!
محبتوں کی وہ ٹوٹی ہوئی کشتیاں
اب ایک بار پھر سے جوڑیں
جو نفرتوں کی آندھیوں سے
ٹکرا ٹکرا کر
بکھر گئیں ہیں
چلو!
ہمت کا پرچم لے کر
موڑ دیں ان کشتیوں کا رخ
محبت کے اس سمندر کی جانب
جس کے سینے پر
سکون و اطمینان کے
آس کے
مسرت کے
سارے تودے
برف کی شکل میں
ساکت جمے ہیں
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
