مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کے نفاذ کے لیے اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل،جی آر جاری

ممبئی، 9 جولائی: (ورق تازہ نیوز)مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کے نفاذ کے امکانات، قانونی تقاضوں اور سماجی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ قانون و انصاف کی جانب سے 9 جولائی کو سرکاری حکم نامہ جاری کیا گیا۔

حکومت کے مطابق بجٹ اجلاس 2026 کے دوران مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق ہونے والی بحث کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ یہ موضوع نہایت وسیع، حساس اور آئینی اہمیت کا حامل ہے، اس لیے اس پر تمام قانونی، سماجی، مذہبی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا دیسائی کو کمیٹی کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں سابق ہائی کورٹ جج جسٹس آر۔ سی۔ چوہان، سابق ہائی کورٹ جج جسٹس ایس۔ جی۔ مہرے، سابق چیف سیکریٹری دنیش کمار جین، سابق ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر بیرندر سراف، پدم شری رَمیش پتنگے اور ڈاکٹر سُورنہ راول بطور ارکان شامل ہیں۔

حکومت نے کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق آئینی، قانونی، سماجی، ثقافتی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے۔ اس کے علاوہ اتراکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں نافذ قوانین، ان کے عملی تجربات اور درپیش مشکلات کا بھی مطالعہ کیا جائے۔

کمیٹی شادی، طلاق، گود لینے، وراثت، جانشینی اور دیگر ذاتی قوانین کا جائزہ لے گی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں، قانونی ماہرین، سماجی تنظیموں، خواتین کی انجمنوں، تعلیمی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور عوام کی آراء بھی حاصل کرے گی۔

حکومت نے کمیٹی کو ضرورت پڑنے پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے، ماہرین کو مدعو کرنے اور مختلف سرکاری محکموں سے معلومات طلب کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔

سرکاری حکم کے مطابق کمیٹی کو اپنی تشکیل کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر جامع سفارشات پر مشتمل حتمی رپورٹ حکومتِ مہاراشٹر کو پیش کرنا ہوگی، جس کی بنیاد پر ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بارے میں آئندہ فیصلہ کیا جائے گا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس عمل کا مقصد آئین کے آرٹیکل 44 کے مطابق تمام شہریوں کے لیے یکساں انصاف، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور متوازن پالیسی تیار کرنا ہے۔جی ار حسب ذیل ہے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading