بی جے پی اور شرد پوار کی این سی پی ایک ساتھ،روہت پوار کے مؤقف نے سیاسی کھیل بدل دیا

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ممکنہ اتحاد کی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی قربت سے متعلق مختلف خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ممبئی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں شرد پوار گروپ کے سابق ریاستی صدر جینت پاٹل اور بی جے پی کے سینئر رہنما ونود تاوڑے کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اگرچہ ریاستی یا قومی سطح پر دونوں جماعتوں کے باضابطہ اتحاد کے بارے میں فی الحال کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا، تاہم احمد نگر (اہلیانگر) ضلع کے کرجت تعلقہ میں دونوں جماعتوں نے مقامی سطح پر ایک ساتھ آکر سب کو حیران کر دیا ہے۔

کرجت نگر پنچایت میں بی جے پی کی چھایا شیلار کو نیا نگرادھیکش (چیئرپرسن) منتخب کر لیا گیا۔ اس عہدے کے انتخاب میں بی جے پی اور شرد پوار کی این سی پی نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی، جس کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔

اس سے قبل نگرادھیکش روہنی گھولے کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جانے والی تھی، تاہم انہوں نے ووٹنگ سے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق روہنی گھولے کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں بی جے پی کے رہنما رام شندے اور این سی پی (شرد پوار) کے ایم ایل اے روہت پوار ایک ہی صف میں نظر آئے۔

اس پیش رفت کے بعد کرجت نگر پنچایت میں رام شندے کا سیاسی اثر و رسوخ برقرار رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرجت کی سیاست میں رام شندے اور روہت پوار کو ہمیشہ ایک دوسرے کا سخت سیاسی حریف سمجھا جاتا رہا ہے۔ روہت پوار دو مرتبہ اسمبلی انتخابات میں رام شندے کو شکست دے چکے ہیں، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں مقامی سطح پر دونوں جماعتوں کا ایک ساتھ آنا مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading