نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کے مجرم ونے شرما کی صدر کی جانب سے خارج رحم کی درخواست کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اپنا فیصلہ جمعرات کو محفوظ رکھ لیا۔
جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی خصوصی بنچ نے ونے شرما کے وکیل اے پی سنگھ اور مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عدالت نے اس پر فیصلہ سنانے کے لیے جمعہ کو دوپہر بعد دو بجے کا وقت مقرر کیا۔
اس سے پہلے اے پی سنگھ نے دلیل دی کہ ونے شرما کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کو متعلقہ دستاویزات فراہم نہیں کراوئے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی حکومت کے وزیر داخلہ نے رحم کی درخواست مسترد کرنے کے سفارشی خط پر دستخط نہیں کیے ہیں۔
2012 Delhi gang-rape case: Delhi's Patiala House Court says, Article 21 of the Constitution protects the life and liberty of the convicts till the last breath of the life. https://t.co/7is5vLGV6T
— ANI (@ANI) February 13, 2020
ادھر اے پی سنگھ نے نربھایا کے ایک دیگر مجرم پون گپتا کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے بعد دہلی میں واقع پٹیالہ ہاؤس عدالت نے روی قاضی کو پون گپتا کا وکیل مقرر کیا ہے۔ دریں اثنا، پٹیالہ ہاؤس عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران تبصرہ کیا کہ آئین کا آرٹیکل 21 مجرموں کی آخری سانس تک زندگی اور جینے کی آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پٹیالہ ہاؤس عدالت نے بدھ کے روز نربھیا کے والدین اور دہلی حکومت کی طرف سے مجرموں کو پھانسی دینے کے لئے ایک نیا ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔ ادھر، مجرم پون نے دلیل دی کہ اس کا کوئی وکیل نہیں ہے۔ لہذا وہ اپنے قانونی اختیارات استعمال کرنے سے قاصر ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو