نئی دہلی: دہلی کے نربھیا آبروریزی معاملے کے قصوروار اکشے سنگھ کی نظرثانی عرضی پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عرضی کو خارج کر دیا۔ جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ نے بدھ کے روز تقریباً ایک گھنٹے تک عرضی گزاروں اور استغاثہ فریق کی دلیلیں سننے کے بعد دوپہر ایک بجے اپنا فیصلہ سنایا۔
Asha Devi, mother of 2012 Delhi gang-rape victim, to ANI on SC rejects review petition of convict Akshay: I am very happy. (file pic) https://t.co/XI5HmYM8fU pic.twitter.com/U6K3qQXiKa
— ANI (@ANI) December 18, 2019
قبل ازیں، اکشے سنگھ کی جانب سے پیش وکیل اے پی سنگھ نے سپریم کورٹ میں دلیلیں دیں اور کہا کہ معاملے کی جانچ سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس نئے حقائق ہیں۔ میڈیا، سیاست اور عوام کے دباؤ میں اکشے کو قصوروار ٹھہرا دیا گیا۔‘‘
Supreme Court rejects review petition of Akshay Kumar Singh, one of the convicts in the 2012 Delhi gang-rape case. pic.twitter.com/5fhmZI94bW
— ANI (@ANI) December 18, 2019
اے پی سنگھ نے کہا کہ متاثرہ کا دوست میڈیا سے پیسہ لے کر انٹرویو دے رہا تھا۔ اس سے کیس متاثر ہوا۔ وہ مصدقہ گواہ نہیں تھا۔ اس پر جسٹس بھوشن نے کہا کہ اس کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے۔ وکیل نے کہا، وہ لڑکا معاملے میں اکلوتا چشم دید گواہ ہے، اس کی گواہی معنی رکھتی ہے۔
اے پی سنگھ نے ریان انٹرنیشنل کیس میں اسکول طالب علم کے قتل کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس معاملے میں بےقصور کو پھنسایا گیا تھا۔ اگر سی بی آئی کی تفتیش نہیں ہوتی تو سچ سامنے نہیں آتا۔ اس لئے ہم نے اس کیس میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔‘‘
بعد میں دہلی پولس کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ متعلقہ معاملے میں انسانیت شرمسار ہوگئی تھی اور بھگوان کو بھی اس طرح کے حیوان بنانے کے لئے خود کو شرمندہ ہونا پڑا ہوگا۔ انہوں نے کسی قسم کی راحت دیئے جانے کی مخالفت کی۔ اس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا اور ایک بجے عرضی کو مسترد کر دیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بعد میں اکشے کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے دباؤ کی وجہ سے اپنا فیصلہ سنایا ہے اور وہ اس معاملہ میں ابھی کیوریٹیو پٹیشن بھی داخل کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ صدر کے یہاں اکشے کی رحم کی عرضی بھی داخل کریں گے اور اس کے لئے انہیں تین ہفتوں کا وقت درکار ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
